کیا 2018 کے انتخابات سے تبدیلی آ جائے گی؟

اپ ڈیٹ 12 جون 2018

ای میل

جمہوری انداز میں منتخب ہونے والی ملک کی پہلی پارلیمنٹ نے اپنی مدت 2013 میں مکمل کی تھی اور اب 2018 میں دوسری مرتبہ پارلیمنٹ نے اپنی مدت پوری کی ہے۔ اس دوران کافی کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔ ملک میں متوسط طبقے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے ووٹنگ رجحانات گزشتہ سالوں کے ووٹنگ رجحانات سے کافی مختلف ہوں گے۔

ڈان اخبار کے کالم نگار عمیر جاوید تجزیہ پیش کرتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ پورے ملک کا متوسط طبقہ ایک ہی بیانیے پر متفق ہو۔ کچھ کے نزدیک پی ٹی آئی کا کرپشن مخالف بیانیہ اس وقت ملک کی اہم ترین ضرورت ہے تو کچھ کو مسلم لیگ (ن) کے ترقیاتی کاموں میں تبدیلی نظر آتی ہے۔

مگر کیا 2018 کے انتخابات سے وہ تبدیلی آجائے گی جس کی ہم سب کو توقع ہے؟ عمیر جاوید کا استدلال ہے کہ ایسا نہیں ہے، مگر مایوس ہونے کے بجائے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ مجموعی طور پر ہمارا سیاسی و جمہوری بیانیہ واضح معاملات کی طرف بڑھ رہا ہے اور لوگ اب بنیادی مسائل پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔

جب ایک دفعہ بنیادی مسائل پر سوال اٹھنے لگیں گے تو بالآخر وسیع تر سوالات مثلاً ملکی وفاق کے مستقبل، لسانی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور سیاست میں فوج کے کردار سے متعلق سوالات بھی اٹھیں گے۔