سپریم کورٹ نے حکومتوں کی جانب سے بیرونی قرضوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم پر سپریم کورٹ کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بیرون ملک اکاؤنٹس اور اثاثوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بیرونی اکاونٹس، بیرون ملک اثاثہ جات سے متعلق کیس کا تحرہری فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال تحریر کریں گے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے سماعت کے دوران کہا کہ ایمنسٹی اسکیم پر سپریم کورٹ کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ قرضے لے کر ہم نے آنے والی پانچ نسلوں کا رزق کھا لیا، ہم آنے والی نسل کو کیا دے کر جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ درآمد کو چھوڑیں، اسمگلنگ کی کھلی چھوٹ دے دی گئی، ملکی صنعتوں کو اٹھنے ہی نہیں دیا گیا۔

چیف جسٹس نے تجویز دی کہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے تھینک ٹینک بنائے جائیں جس کے لیے لا اینڈ جسٹس کمیشن کا پلیٹ فارم حاضر ہے۔

سیکرٹری خزانہ سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پانی، تعلیم، صحت اور دیگر کے لیے مختص رقم کافی ہے جس پر سیکرٹری خزانہ نے اعتراف کیا کہ یہ رقم کافی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے گورنر اسٹیٹ بینک سے کہا کہ قرضوں پر قرضہ لے کر سود دیا جا رہا ہے، ہیسے واپس کس نے کرنے ہیں، ملکی وسائل اور ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔

گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہا کہ کرنسی کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں، دس ہزار ڈالرز سے زائد رقم کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا اسٹیٹ بینک، فارن کرنسی پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے، اسٹیٹ بینک کی پالیسی ہمارے کلچر سے مطابقت رکھتی ہے اور آپ ایسا قانون مت بنائیں جس سے آپ کو شرمندگی ہو۔

چیف جسٹس مزید کہا کہ آپ کے قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا پھر آپ کہتے ہیں کہ ادارہ کام نہیں کررہا۔

اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر طارق پاشا نے کہا کہ یکم ستمبر سے 103 ممالک کے ساتھ معاہدہ نافذ العمل ہو جائے گا جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا سوئٹزرلینڈ کے ساتھ بھی بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ الگ معاہدہ کررہے ہیں اور یہ سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سال میں یہ معاہدے کیوں نہیں کیے گئے، حکومت نے فارن اکاؤنٹس کو چیک کیوں نہیں کیا، افسران پاکستان کے مالک تھے، بڑے بڑے عہدوں پر فائز افسران نے کیوں کوئی کام نہیں کیا لیکن ہمیں یہ جاننا ہے کہ ہر پاکستانی بچہ کتنا مقروض ہے۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے رواں سال ہی ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا تھا جس سے بیرون ملک موجود پاکستانی افراد کے اثاثوں کو پاکستان منتقل کرنے کے لیے رعایت دی گئی تھی۔

تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس اسکیم کو معطل کیا جاسکتا ہے اور یہ اسکیم کامیاب نہیں ہوسکے گی لیکن عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔