کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کراچی ڈویژن کے سابق صدر عبدالقادر پٹیل کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

فیصلہ ریٹرننگ آفیسر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج غربی نمبر 4 نے جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ عبدالقادر پٹیل آئین کے آرٹیکل 62 پر پورا نہیں اترتے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عبدالقادر پٹیل نے مسلسل 6 غیر ملکی دورے کیے، دوروں کے دوران خرچ کی جانے والی رقم کی تفصیلات درست فراہم نہیں کی گئیں۔

مزید پڑھیں: این اے 239 میں عبدالقادر پٹیل کامیاب

الیکشن کمیشن کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ عبدالقادر پٹیل نے لندن، دبئی اور دیگر ممالک کے ایک سال میں 6 سے زائد دورے کیے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ان دوروں میں خرچ کی جانے والی ٹوٹل رقم 3 لاکھ 45 ہزار ہے جو ناقابل یقین ہے، اس لیے آرٹیکل 62 کے تحت عبدالقادر پٹیل کے کاغذات نامنظور کیے جاتے ہیں۔

گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے انتخابات 2018 کے لیے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 248 پرعبدالقادر پٹیل کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق عبدالقادر پٹیل نے 15 تولے سونے کی مالیت ڈیڑھ لاکھ روپے ظاہرکی تھی جبکہ ڈیفنس میں قائم اپنے مکان کی مالیت کے حوالے سے بھی درست معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔

ریٹرننگ افسر نے عبدالقادر پٹیل کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی پی پی کراچی ڈویژن کے سابق صدر نے کاغذات نامزدگی میں درست معلومات ظاہر نہیں کیں۔

واضح رہے کہ الیکشن 2013 میں عبدالقادر پٹیل، پی پی پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 239 کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے، انہوں نے 2008 کے الیکشن میں بھی اسی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عبدالقادر پٹیل کی دبئی سے کراچی آمد

21 مارچ 2015 کو پی پی پی نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر کراچی ڈیژن کے صدر عبدالقادر پٹیل کی پارٹی رکنیت معطل کردی تھی۔

12 اپریل 2016 کو پی پی پی کراچی ڈویژن کے سابق صدر عبدالقادر پٹیل طویل خود ساختہ جلا وطنی کے بعد دبئی سے کراچی واپس پہنچے تھے۔

خیال رہے کہ عبدالقادرپٹیل پر گینگ وار ملزمان کا علاج کروانے کا الزام ہے جبکہ ان کے کئی مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوچکے ہیں، تاہم انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت قبل ازگرفتاری حاصل کررکھی ہے۔