اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق صدرِ مملکت اور آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے لیے خصوصی عدالت قائم کردی۔

چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ جسٹس یاورعلی کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذراکبر پر مشتمل خصوصی عدالت قائم کی گئی۔

صدرِ مملکت ممنون حسین نے سابق صدرِ مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے سلسلے میں 2 رکنی خصوصی عدالت قائم کرنے کی منظوری دی۔

خیال رہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے ذریعے سنگین غداری کیس کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے خصوصی عدالت نے 13 دسمبر 2013 کو قابلِ سماعت قراردیتے ہوئے سابق صدر کو 24 دسمبر کو طلب کیا تھا۔

مزید پڑھیں: دفترخارجہ لاعلم، پرویز مشرف کو سفارتی پاسپورٹ جاری

جنرل (ر) پرویز مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے بعد عدالت نے 18 فروری 2014 کو ان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے تھے۔

سابق صدر پر 31 مارچ 2014 کو فردِ جرم عائد کردی گئی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا تھا، بعدِ ازاں 17 جون سے استغاثہ نے اپنے شواہد پیش کرنا شروع کیے جو 18 ستمبر کو اختتام پذیر ہوئے۔

معزز عدالت نے 8 مارچ 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا۔

خیال رہے کہ عدالت نے 19 جولائی 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو مفرور قرار دے کر ان کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیئے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دے دیا تھا، تاہم ان کے وکلا نے اس حکم نامے کو چیلنج کردیا تھا، جو ابھی بھی خصوصی عدالت میں زیرِ التوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: پرویزمشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کرنے کا حکم

28 مارچ کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے خصوصی عدالت میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف زیرِ سماعت سنگین غداری کیس کا فیصلہ جلد سنانے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

29 مارچ 2018 کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے سابق سربراہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت سے معذرت کرلی تھی۔

یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ 8 مارچ 2018 کو استغاثہ کے وکیل محمد اکرم شیخ نے خصوصی عدالت کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی بھی مثال دی۔

یاد رہے کہ 11 جون کو سپریم کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا قومی شناختی کارڈ (این آئی سی) اور پاسپورٹ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔