الیکشن کمیشن آف پاکستان میں انتخابات 2018 کے اُمیدواروں کی اسکروٹنی کا عمل جاری ہے جبکہ اس دوران انکشاف ہوا ہے کہ 2 سو 68 امیدوار سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے کروڑوں روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔

انتخابات 2018 کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کے کوائف کی اسکروٹنی کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالے سے ایس این جی پی ایل نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھجوا دی۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق 2 سو 68 امیدوار ایس این جی پی ایل کے ڈیفالٹر ہیں اور ان پر کروڑوں روپے واجب الادا ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بے دخل کیے جانے والے سابق ایم پی اے امجد خان آفریدی 21 کروڑ 62 لاکھ روپے کے ڈیفالٹر ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما غلام احمد بلور 14 کروڑ 46 لاکھ روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔

مزید پڑھیں: عام انتخابات: 100 سے زائد اُمیدواروں کے کوائف مشکوک قرار

اس کے علاوہ سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کے رہنما پرویز خٹک بھی ایس این جی پی ایل کے نادہندہ نکلے اور وہ ‘ہوتی گیس سی این جی’ کے مالک ہیں جو 10 کروڑ 65 لاکھ 75 ہزار سے زائد کی ڈیفالٹر ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق پرویز خٹک کے نام پر ‘موٹروے اِن سی این جی’ بھی رجسٹر ہے اور پرویز خٹک کی مذکورہ کمپنی 8 کروڑ 24 لاکھ 22 ہزار سے زائد کی نادہندہ ہے۔

ان کے علاوہ اے این پی کے رہنما الیاس احمد بلور 55 ہزار سے زائد کے ڈیفالٹر جبکہ سردار میر بادشاہ خان 37 ہزار سے زائد کے نادہندہ ہیں۔

الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی بھی ایس این جی پی ایل کی ڈیفالٹر لسٹ میں شامل ہیں۔

گزشتہ روز الیکشن کمیشن ذرائع نے بتایا تھا کہ انتخابات 2018 کے سلسلے میں اُمیدواروں کی اسکروٹنی کا عمل جاری ہے جبکہ اسٹیٹ بینک نے ایک سو سے زائد اُمیدواروں کے کوائف بینک ڈیفالٹر ہونے کی وجہ سے مشکوک قرار دے دیئے۔

ذرائع کے مطابق این اے 143، 144 اور پی پی 186 سے اُمیدوار میاں منظور احمد وٹو نادہندگان میں شامل ہیں، ان کے علاوہ خالد کامران، حنا ربانی کھر، طاہرہ امتیاز اور عالیہ آفتاب بھی بینکوں کے نادہندہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کیلئے حتمی تاریخ میں تبدیلی

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے اُمیدواروں کی اسکروٹنی کے لیے آئن لائن ڈیسک قائم کررکھی ہے جس میں تمام اُمیدواروں کے قواعد قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر)، اسٹیٹ بینک اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو اسکروٹنی کے لیے بھجوائے جاتے ہیں۔

متعلقہ محکموں کی جانب سے اسکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کے بعد تفصیلات مذکورہ ڈیسک کو واپس بھجوائی جاتی ہیں جسے الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید کارروائی کے لیے متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کو بھجوا دیا جاتا ہے۔