شمالی امریکا کو 2026 ورلڈ کپ کی میزبانی مل گئی، مراکش محروم

اپ ڈیٹ 13 جون 2018

ای میل

ماسکو میں منعقدہ فیفا کانگریس میں ورلڈ کپ 2026 کے میزبانوں کے ناموں کا اعلان کیا جا رہا ہے— فوٹو: اے ایف پی
ماسکو میں منعقدہ فیفا کانگریس میں ورلڈ کپ 2026 کے میزبانوں کے ناموں کا اعلان کیا جا رہا ہے— فوٹو: اے ایف پی

شمالی امریکا نے ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی کا شرف حاصل کر لیا جہاں مالی وسائل اور سفری سہولیات پر شکوک کے سبب مراکش فٹبال کی تاریخ میں پہلے 48ٹیموں پر مشتمل عالمی کپ کی میزبانی سے محروم ہو گیا۔

امریکا نے 1994 میں ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی اور اب 32سال بعد ایک مرتبہ عالمی کپ کی مشترکہ طور پر میزبانی کرے گا جہاں اس کے ساتھ میکسکو اور کینیڈا 10میچوں کی میزبانی کریں گے۔

بدھ کو ماسکو میں منعقدہ فیفا کانگریس میں 2026 کے عالمی کپ کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں شمالی امریکا کو 134 اور مراکش کو 65 ووٹ ملے۔

2018 اور 2022 ورلڈ کپ کے لیے 2010 میں ہونے والی ووٹنگ پر شکوک و شبہات کے سبب اس مرتبہ فٹبال فیڈریشن نے ووٹ کو پبلک کردیا تھا تاکہ عوام اور رکن ملکوں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

ضرور دیکھیں: فیفا ورلڈ کپ 2018 کی خصوصی کوریج

2026 کے ایونٹ میں پہلی مرتبہ 32 کے بجائے 48 ٹیمیں شرکت کریں گی اور گزشتہ تمام ایونٹس کے مقابلے میں اس ٹورنامنٹ میں 16زائد ٹیموں کو شرکت کا موقع ملے گا۔

امریکا نے ایونٹ میں ہونے والے 80میں سے 60میچوں کی میزبانی کی پیشکش کی تھی جہاں کینیڈا اور میکسکو بھی 10، 10 میچوں کی میزبانی حاصل کریں گے لیکن کوارٹر فائنلز سے آگے تمام مقابلوں کی میزبانی امریکا کرے گا۔

1994 میں ورلڈ کپ کے کامیاب انعقاد اور سب سے بڑے ٹورنامنٹ کے لیے دستیاب بہترین انفرااسٹرکچر کی بدولت امریکا کو ایونٹ کی میزبانی کے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا جہاں اس کے برعکس مراکش میں تمام 14اسٹیڈیمز کو باقاعدہ تعمیر یا پھر ان کی بڑے پیمانے پر مرمت کرنی پڑتی جس کے لیے 16ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار تھی۔

مراکش کو میزبانی نہ ملنے کی ایک اور ممکنہ وجہ ورلڈ کپ سے حاصل ہونے والے ممکنہ منافع میں کمی ہے جہاں فیفا نے تخمینہ لگایا تھا کہ اگر ایونٹ کا انعقاد مراکش میں کیا گیا تو 1.07 ارب ڈالر کی آمدنی ہو گی اور اس کے مقابلے میں شمالی امریکا سے تقریباً دگنی 2 ارب ڈالر کی آمدنی کا امکان ہے۔

کینیڈا پہلی مرتبہ مردوں کے ورلڈ کپ میچوں کی میزبانی کرے گا جبکہ میکسکو بھی 1986 ورلڈ کپ کی میزبانی کے بعد 40 سال میں پہلی مرتبہ عالمی کپ کی میزبانی کا شرف حاصل کرے گا۔

خیال رہے کہ میکسیکو 1970 کے ورلڈ کپ کی بھی میزبانی کر چکا ہے، اور تیسری مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا یہ دنیا کا واحد ملک بن جائے گا۔

ایونٹ کا فائنل نیویارک کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں منعقد کرانے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں 87ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ: ریفری کی مدد کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف

ورلڈ کپ کی بولی شمالی امریکا کی جانب سے جیتے جانے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان ملکوں کو عالمی کپ کی میزبانی کے لیے ترجیح دی گئی جنہوں نے کرپٹ اسپورٹس رہنماؤں کے خلاف خفیہ تحقیقات کے ذریعے بڑھ چڑھ کر کارروائی کی۔

اب اس بات کا اختیار فیفا کے پاس ہے کہ کن شہروں کو ورلڈ کپ کی میزبانی دی جاتی ہے جبکہ ابھی تک یہ بات بھی غیرحتمی ہے کہ آیا تینوں ملکوں کو ورلڈ کپ تک براہ راست رسائی دی جائے گی یا انہیں کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنا پڑے گا۔