تبلیسی: جارجیا کے وزیر اعظم جیورگی کِویریکاشوِلی نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی تقریر میں کِویریکاشوِلی نے حکمراں جماعت جیارجین ڈریم پارٹی کے چیئرمین، ارب پتی ٹائیکون اور ملک کے سابق وزیر اعظم بِڈزینا ایوانِشوِلی سے کئی بنیادی معاملات پر اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں اپنے فیصلے کی وجہ بتایا۔

جیورگی کِویریکاشوِلی کی جانب سے تقریباً ڈھائی سال حکومت کرنے کے بعد یہ اقدام، حکومت کی جانب سے اقتصادی معاملات پر عوامی ناپسندیدگی اور حالیہ ماہ میں بڑی پیمانے پر مظاہروں کے بعد اٹھایا گیا۔

یکم جون کو ہزاروں افراد قتل ٹرائل میں سیاسی طور پر اثرانداز ہونے کے الزام میں جیورگی کِویریکاشوِلی کے خلاف تبلیسی کی سڑکوں پر نکلے تھے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

بعد ازاں تبلیسی سَب وے کے ملازمین نے بھی بڑے پیمانے پر ہڑتال کردی جس کے بعد تقریباً 12 لاکھ کی آبادی والے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہوگیا۔

قبل ازیں مئی میں دو معروف نائٹ کلبس میں پولیس کی ریڈ اور حکومت کی سخت انسداد دہشت گرد پالیسی کے خلاف ہزاروں افراد نے تبلیسی میں ریلی نکالی تھی۔

ان مظاہرین نے بھی جیورگی کِویریکاشوِلی اور وزیر داخلہ جیورگی گاکھاریا کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

جیارجیا کے آئین کے مطابق وزیر اعظم کے استعفے کے بعد پوری کابینہ مستعفی ہوجاتی ہے، جس کے بعد حکمراں جماعت کے بعد نیا وزیر اعظم نامزد کرنے کے لیے سات روز ہوتے ہیں، جس کی تقرری ملک کا صدر کرتا ہے۔