اسلام آباد: احتساب عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے صدر سعید احمد کی جانب سے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف دائر اثاثہ جات ریفرنس میں دی گئی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

واضح رہے کہ سعید احمد کو ریفرنس میں شریک ملزم ٹھہرایا گیا تھا، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اسحٰق ڈار کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولے جس کے ذریعے سابق وزیر خزانہ نے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کی، جبکہ احتساب عدالت سابق وزیر خزانہ کو بدعنوانی کا مرتکب قرار دے چکی ہے۔

خیال رہے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے دائر ریفرنس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ صدر نیشنل بینک سعید احمد، ہجویری مضاربہ مینیجمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹرز میں سے ایک تھے اور انہیں مرکزی ملزم اسحٰق ڈار کی اہلیہ کی جانب سے ہجویری مضاربہ پرائیویٹ لمیٹڈ کے 7 ہزار حصص بھی منتقل کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: اثاثہ جات ریفرنس: شریک ملزم سعید احمد نے بریت کی درخواست دائر کردی

ریفرنس کے مطابق نیب کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ سعید احمد کے نام پر 7 بینک اکاؤنٹس کھولے گئے، بادی النظر میں ان سے اسحٰق ڈار اور ان کی کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا۔

نیب کا کہنا تھا کہ سعید احمد نے جان بوجھ کر ملزم کو اپنے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولنے اور استعمال کی اجازت دی تاکہ وہ اپنی غیر قانونی رقم منتقل کرسکیں۔

اس ضمن میں نیشنل بینک کے صدر نے اپنے وکیل حشمت حبیب کے ذریعے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 265 (کے) کے تحت درخواست دائر کی تھی، مذکورہ دفعہ کے تحت جج کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ مقدمے میں کسی بھی موقع پر ملزم کو بری کردے۔

مزید پڑھیں: نیشنل بینک کے صدر کے خلاف نیب کی کارروائی کا آغاز

اس حوالے سے سعید احمد کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر نیب کا موقف دلائل کے لیے سچ مان لیا جائے تب بھی ان کے مؤکل کے خلاف قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) 1999 کے تحت فردِ جرم عائد نہیں ہوتی۔

ان کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ استغاثہ نے این اے او 1999 کی دفعہ 9 کی مختلف ذیلی دفعات کے تحت بدعنوانی، معاونت فراہم کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے 3 الزامات عائد کیے تھے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ عدالت سعید احمد کے خلاف بدعنوانی کا الزام خارج کرچکی اس لیے اکاؤنٹس سے بدعنوانی کے الزام کا اب کوئی قانونی جواز نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسحٰق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس: نیشنل بینک کے صدر پر فرد جرم عائد ہونے کا امکان

اس حوالے سے سعید احمد کے وکیل نے سپریم کورٹ میں حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے کا حوالہ دیا جس میں عدالت نے شریف فیملی کے خلاف ریفرنس دوبارہ کھولنے کی درخواست مسترد کردی تھی، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں بھی اسی طرح بینک اکاؤنٹ کھولنے اور رقم منتقل کرنے کا معاملہ زیر سماعت تھا جس میں انہوں نے ملزمان کو بری کردیا تھا۔

ملزم کے وکیل نے بحث کے دوران مزید کہا کہ اس ریفرنس میں اختیارات کے ناجائز استعمال کی جزیات سے آگاہ کیا گیا نہ ہی اس حوالے سے کوئی شواہد پیش کیے گئے جبکہ استغاثہ اس ضمن میں کوئی گواہ بھی سامنے نہیں لا سکے، اس لیے یہ کیس خارج کر کے ان کے مؤکل کو بری کیا جائے۔

دوسری جانب نیب کے وکیل خصوصی عمران شفیق نے عدالت سے درخواست کی وہ نیب کو مقدمہ ثابت کرنے کی اجازت دے، ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے 56 گواہان شواہد کے طور پر پیش کیے جاسکتے تھے۔

مزید پڑھیں: نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نیب ٹیم کے سامنے پیش

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک وائٹ کالر جرم ہے اس لیے نیشنل بینک کے صدر کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

استغاثہ کے مطابق نیب کو سعید احمد کے نام پر کھولے گئے مخلتلف اکاؤنٹس سے بھاری رقم کی منتقلی کا علم ہوا ہے، لہٰذا استغاثہ کے پاس اس قدر شواہد موجود ہیں کہ ان کے خلاف مقدمے میں پیش کیے جاسکیں۔

خیال رہے کہ سعید احمد کی جانب سے مارچ میں بھی بریت کی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف درج الزامات مفروضے کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔

اس ضمن میں نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کی جانب سے نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ایک خط لکھا گیا، جس میں انہوں نے اثاثہ جات ریفرنس میں تحقیقاتی افسر سمیت نیب عہدیداروں کی مبینہ طور پر من مانی کرنے کا ذکر کیا تھا۔


یہ خبر 14 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی