لاہور: قومی احتساب بیور (نیب) کی جانب سے شریف خاندان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی درخواست کے باجود سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی لندن روانہ ہوگئے۔

دونوں رہنما لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے غیر ملکی ایئرلائن کے ذریعے براستہ دوحہ لندن پہنچیں گے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی ایک ہفتے تک لندن میں قیام کریں گے اور وہاں زیر علاج بیگم کلثوم نواز کے ساتھ عید منائیں گے۔

مزید پڑھیں: نوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے وزارت داخلہ سے پھر رابطہ

اس حوالے سے مریم نواز نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’لندن کے لیے روانہ ہورہے ہیں اور آئندہ ہفتے واپس آجائیں گے‘۔

انہوں نے اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کے لیے خصوصی دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’امی سے ملنے اور انہیں گلے لگانے کے لیے بے تاب ہیں‘۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز بیگم کلثوم نواز کی صحت سے متعلق ڈاکٹروں سے بھی مشورہ کریں گے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور ان کے خاندان کے دیگر افراد احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب دائر ریفرنسز کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ احتساب عدالت کی جانب سے انہیں حاضری سے 1 ہفتے کا استثنیٰ بھی نہیں دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب ریفرنسز میں میرے بنیادی حقوق سلب کیے جارہے ہیں، نواز شریف

کچھ روز قبل نیب کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بچوں مریم، حسن، حسین اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا گیا تھا۔

نیب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ‘ملزمان کے خلاف ریفرنس ٹرائل کے آخری مرحلے میں ہے اور ملزمان قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ کر فرار ہوسکتے ہیں کیونکہ عدالتی فیصلہ جلد متوقع ہے’۔

تاہم اس حوالے سے حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ صرف عدالتی حکم پر ہی نواز شریف اور ان کے بچوں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا، دوسری جانب نیب حکام نے حکومتی موقف کو ‘تاخیری حربہ’ قرار دیا تھا۔