کوئٹہ: بلوچستان حکومت کی نگراں کابینہ میں زیادہ تر تاجروں اور ریٹائر افسران شامل کیے گئے ہیں، جن کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں۔

انعام بخش بلوچ

انعام بخش بلوچ نیشنل بینک پاکستان کے سینئر نائب صدر رہے ہیں، اس کے علاوہ نیشنل بینک کے بلوچستان میں سربراہ بھی رہے ہیں اور انہیں نگراں کابینہ میں خزانہ کا قلمدان دیا گیا ہے۔

آغا محمد عمر بنگلزئی

آپ کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے اور ان کے والد میر نصیر احمد بنگلزئی کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تھا لیکن عمر بنگلزئی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قریب رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کی 11 رکنی نگراں کابینہ نے حلف اٹھالیا

انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور وہ صوبائی وزیر برائے قانون اور پارلیمانی امور، کھیل اور ثقافت کے فرائض بھی انجام دیں گے۔

عبدالسلام خان

عبدالسلام خان ایک ریٹائر سرکاری ملازم ہیں اور انہوں نے محکمہ آبپاشی سے متعلق مختلف عہدوں کے ساتھ چیف انجینئر اور سیکریٹی آبپاشی کے فرائض بھی انجام دیئے ہیں۔

ملک عنایت اللہ خان کاسی

آپ کا شمار کوئٹہ کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے اور ان کے والد ڈاکٹر عبدالمالک کاسی وزیر صحت رہ چکے ہیں۔

عنایت اللہ کاسی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور بلوچستان ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں، اس کے علاوہ وہ بلوچستان میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے جبکہ موجودہ کابینہ میں وہ داخلی اور قبائلی امور کی وزارت کے فرائض انجام دیں گے۔

فرزانہ علی بلوچ

یہ ایک سماجی کارکن ہیں اور کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں خاتون رکن کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں، اس کے علاوہ 2014 کے بلدیاتی انتخابات میں وہ کونسلر بھی منتخب ہوئی تھیں۔

نگراں کابینہ میں انہیں سماجی بہبود، بہبود آبادی، اقلتی امور اور خواتین کی ترقی کی وزارت دی گئی ہے۔

منظور حسین قازلبش

نگراں کابینہ کے یہ رکن سابق حکومتی افسر رہے ہیں اور بلوچستان کے محکمہ کمیونٹی اور ورکس میں اعلیٰ عہدے پر فرائض انجام دیئے ہیں، موجود نگراں کابینہ میں انہیں بلدیاتی حکومت کا وزیر کا قلمدان دیا گیا ہے۔

حافظ خلیل الرحمٰن

جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے حافظ خلیل الرحمٰن سابق سینیٹر حافظ حسین احمد کے قریبی رشتے دار ہیں۔

بلوچستان کی نگراں کابینہ میں وہ زکوۃ اور مذہبی امور کے وزارت کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔

نوید احمد کلماتی

ان کا تعلق بلوچستان کے شہر گوادر سے ہے اور وہ ایوان صنعت و تجارت گوادر کے صدر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

خرم شہزاد

بلوچستان کی نگراں کابینہ کے رکن کا تعلق سبی سے ہے اور پیشے کے اعتبار سے یہ ایک تاجر ہیں، اگرچہ وہ خود سیاستدان نہیں ہیں لیکن ان کے رشتے دار سیاست میں کافی سرگرم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ علاالدین مری نے حلف اٹھا لیا

موجودہ کابینہ میں انہیں وزارت اطلاعت اور ٹیکنالوجی کا قلمدان دیا گیا ہے۔

فضل اللہ کاکڑ

آپ بلوچستان ہائی کورٹ کے جج کے قریبی رشتے دار ہیں جبکہ انہیں صحت اور ماحولیات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔


یہ خبر 14 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی