عرب امارات کے 4 فوجی یمن میں ہلاک

اپ ڈیٹ 14 جون 2018

ای میل

— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سفیر کا کہنا ہے کہ ان کے 4 فوجی جو یمن میں ہلاک ہوئے وہ ساحلی شہر حديدہ کا قبضہ واپس لینے کی مہم کا حصہ تھے۔

یہ بات یو اے ای کے سفیر عبید سلیم الزابی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

مزید پڑھیں: یمن سے سعودی عرب پر میزائل حملہ،3 شہری ہلاک

حوثیوں کی جانب سے یمن کی بندرگاہ تباہ ہونے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اسے تباہ کردیں گے لیکن ہمارے پاس اس کے لیے منصوبے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای اور سعودی اتحاد اس مہم میں آگے بڑھ چکے ہیں جب کہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں انسانی بحران کا خدشہ ظاہر کرچکی ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ 84 لاکھ یمنی غذائی قلت کا شکار ہیں اور کئی کے لیے یہ بندرگاہ ہی غذا کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہے۔

واضح رہے کہ عرب ریاستوں کے سعودی اتحاد نے حوثیوں کی حکمرانی کو ختم کرنے کے لیے دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران کے خدشے کے باوجود یمن کے ساحلی شہر پر حملوں کا آغاز کررکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یمن جنگ کی وجہ برطانیہ،امریکا کی سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی ہے، ایران

عرب کے جنگی طیاروں اور جہازوں نے حوثیوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تاکہ غیر ملکی و یمنی فوج کے زمینی آپریشن میں مدد کی جاسکے۔

عرب ریاستوں اور یمن کے اتحادیوں کے زیر اثر میڈیا کے مطابق یہ لڑائی حدیدہ ایئرپورٹ اور شہر کے جنوب میں 10 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک دیہی علاقہ الدوریحمی میں جاری ہے۔

3 سال قبل ایران کے اتحادی حوثیوں جن کے قبضے میں دارالخلافہ صنعا اور دیگر آبادیوں والے علاقے ہیں، کے خلاف جنگ میں شرکت کرنے کے بعد سے عرب ریاستیں اس بڑے شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔