شاندار افتتاحی تقریب کے بعد ورلڈ کپ2018 کا آغاز

Email


عالمی شہرت یافتہ فنکار روبی ولیمز اور گیری فلونا ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
عالمی شہرت یافتہ فنکار روبی ولیمز اور گیری فلونا ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے شاندار افتتاحی تقریب کے بعد سال کے سب سے بڑے ایونٹ فیفا ورلڈ کپ 2018 کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کردیا جس کے بعد سعودی عرب اور روس کی ٹیمیں افتتاحی میچ میں مدمقابل ہیں۔

روس کے دارالحکومت ماسکو کے لزنیکی اسٹیڈیم میں 80ہزار عوام کے سامنے روس کے صدر نے 21ویں ورلڈ کپ کے آغاز اعلان کیا جو 1980 کے ماسکو اولمپکس کے بعد سے روس میں منعقد ہونے والا سب سے بڑا ایونٹ ہے۔

2010 میں اسپین کو ورلڈ کپ جتوانے والے ایکر کیسیلاس اور روس کی سپر ماڈل نتالیہ ووڈیو نووا میدان میں ورلڈ کپ کی ٹرافی لے کر آئے جس کے بعد افتتاحی تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا جبکہ سابق عظیم برازیلین فٹبالر رونالڈو عالمی کپ کے میسکوٹ زابی واکا کے ہمراہ جلوہ افروز ہوئے۔

15سے20 منٹ تک جاری رہنے والی افتتاحی تقریب میں روبی ولیمز نے اپنی شاندار پرفارمنس سے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کے دل جیت لیے جہاں انہوں نے اپنے مشہور گانوں "لیٹ می انٹرٹین یو" اور "روک ڈی جی" سے محضوض کیا اور ان کے ساتھ ڈانسرز نے اسٹیج پر سماں باندھ دیا۔

سابق عظیم فٹبالر رونالڈو ورلڈ کپ کے مسیکوٹ زابی واکا کے ساتھ افتتاحی تقریب میں آئے— فوٹو: اے ایف پی
سابق عظیم فٹبالر رونالڈو ورلڈ کپ کے مسیکوٹ زابی واکا کے ساتھ افتتاحی تقریب میں آئے— فوٹو: اے ایف پی

تقریب کا زیادہ تر توجہ موسیقی کا حاصل رہی جہاں گیری فلونا نے ولیم کے ساتھ مل کر ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ روس کے مقامی رقص اور کرتبوں نے بھی شائقین کی دلچسپی کا سامان پیدا کیا۔

تقریب کے بعد روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے ورلڈ کپ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ میں دنیا کی اس اہم ترین چیمپیئن شپ کے آغاز پر آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

افتتاحی تقریب کے بعد ایونٹ کے افتتاحی میچ میں میزبان روس اور سعودی عرب کی ٹیمیں مدمقابل ہیں۔