مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے سینئر صحافی اور روزنامہ ’رائزنگ کشمیر‘ کے چیف ایڈیٹر شجاعت بخاری جاں بحق ہوگئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق شجاعت بخاری پر سری نگر کے پریس ایونیو میں ان کے دفتر کے باہر فائرنگ کی گئی، جس سے ان کے سر اور پیٹ میں متعدد گولیاں لگیں۔

فائرنگ سے شجاعت بخاری کے ڈرائیور اور ذاتی محافظ زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں کشمیری حکام کا حوالے سے کہا گیا کہ حملے میں شجاعت بخاری کا ایک محافظ بھی جاں بحق جبکہ پولیس اہلکار زخمی ہوا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ ’ہمیں امن کی بحالی کی کوششوں کو ناکام بنانے والی طاقتوں کے خلاف ہر صورت متحد ہونا ہوگا، جبکہ شجاعت بخاری کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے بھی شجاعت بخاری کے قتل کی مذمت کی۔

بھارتی فوج کی فائرنگ، 2 کشمیری جاں بحق

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے ضلع باندی پور میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 نوجوان جاں بحق ہوگئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں نے نوجوانوں کو باندی پور کے علاقے پَنار میں جاری عسکری آپریشن کے دوران ہلاک کیا۔

علاقے میں گزشتہ چھ روز سے ملٹری آپریشن جاری ہے۔

بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ نوجوان ’شدت پسند‘ تھے جو فورسز کے انکاؤنٹر میں جاں بحق ہوئے۔