ایم کیو ایم: 1992ء سے 2018ء تک

ای میل

اپنے قیام کے تیسرے برس 1987ء میں ہی پہلا الیکشن جیتنے والی ’ایم کیو ایم‘ کو اپنی عمر کے 8 برس بعد داخلی طور پر ایک بڑے انحراف کا سامنا کرنا پڑا، جو نہایت پُرتشدد انداز میں ایم کیو ایم 'حقیقی' کی صورت میں ظاہر ہوا اور ساتھ ہی ایم کیو ایم کے خلاف فوجی آپریشن کا بگل بھی بجا۔

منتخب اراکین کے ساتھ ساتھ رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد نئے دھڑے کے ساتھ ہوئی یا پھر روپوش ہوگئی، ایم کیو ایم کی قیادت بھی منظر عام سے ہٹ گئی اور 'زمین' پر ایم کیو ایم حقیقی رہ گئی۔

جہاں ایک طرف لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل کالونی اور ملیر جیسے ایک دوسرے سے متصل علاقے حقیقی کے زیر اثر آئے، تو وہیں مرکز شہر سے قریب لائنز ایریا اور ضلع وسطی میں لیاقت آباد اور نئی کراچی کے کچھ علاقوں میں بھی ان کی موجودگی سامنے آئی۔ حقیقی کی جانب سے دفاتر پر قبضہ حاصل کرنے کی کوششوں کی وجہ سے متعدد بار خونی تصادم ہوتا رہا جب کہ باقی شہر تقریباً حقیقی سے لاتعلق رہا۔

اُن دنوں مہاجر قومی موومنٹ کو ’متحدہ قومی موومنٹ‘ کرنے کے لیے ایم کیو ایم کے جھنڈے پر لکھا ہوا لفظ ’مہاجر‘ ہٹا دیا گیا تھا، جس پر ’حقیقی‘ نے الطاف حسین پر مہاجر نظریے سے غداری کا الزام لگایا۔ اس کے باوجود ’حقیقی‘ ایک مخصوص سطح سے آگے نہ بڑھ پائی جبکہ ایم کیو ایم کے دونوں گروہوں میں علاقے حاصل کرنے کے لیے مسلح تصادم میں نوجوانوں کی جانیں جاتی رہیں۔

ایم کیو ایم کے دولخت ہونے کے ایک برس بعد اکتوبر 1993ء میں عام انتخابات کا اعلان ہوا۔ ایم کیو ایم نے حالات موافق نہ ہونے پر قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کا اعلان کردیا تو دیگر جماعتیں معمولی ووٹ لے کر منتخب ہوگئیں۔ اگلے ہی روز ’زیرِ زمین‘ قیادت نے صوبائی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے اور ایم کیو ایم نے میدان مار لیا۔

پڑھیے: ایم کیو ایم العالمی سے ایم کیو ایم الزمینی

قبلِ ازیں ’حقیقی‘ کے ظہور کے بعد ایم کیو ایم نے اپنے اراکین سے مستعفی ہونے کو کہا تو بہت سے اراکین نے استعفے دینے سے انکار کرکے حقیقی میں شمولیت اختیار کی اور پھر خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب میں چند سو ووٹ لے کر حقیقی کے امیدوار اسمبلی پہنچے۔

مارچ 2016ء میں جب مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے وطن واپسی پر ایم کیو ایم سے انحراف کرکے اپنی جماعت بنانے کا اعلان کیا، تو ایسا لگا کہ 1992ء کی تاریخ پھر دُہرائی گئی اور یکے بعد دیگرے مختلف منحرف راہ نما اور اراکین اسمبلی بھی مصطفیٰ کمال کے ساجھے دار ہوتے گئے، جن میں رضا ہارون، ڈاکٹر صغیر، انیس ایڈووکیٹ، افتخار رندھاوا، وسیم آفتاب، بلقیس مختار، آصف حسنین، مزمل قریشی، سیف الدین خالد، ارشد وہرہ، شبیر قائم خانی اور نائلہ لطیف وغیرہ تک یہ سلسلہ چلتا چلا گیا اور اب بھی جاری ہے۔

ایم کیو ایم میں 24 سال بعد پڑنے والے اس بڑے نقب کو ’حقیقی دوم‘ سے تعبیر کیا گیا۔ ابتدا میں تو ایسا ہی معلوم ہوا کہ آفاق احمد اور عامر خان کی جگہ اس بار مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی ہیں اور اس کے بعد تنظیم کے بہت سے نئے پرانے چہرے ان کے ہم نوا ہوتے گئے، لیکن جوں جوں وقت آگے بڑھا، یہ بات واضح ہوتی گئی کہ دونوں کے ظہور میں آنے کا طریقہ کار ملتا جلتا تو ہوسکتا ہے لیکن درمیان میں حائل ربع صدی کا زمانہ بہت کچھ تبدیل کرچکا ہے۔

ماضی میں ’حقیقی‘ میں جانے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے وقتاً فوقتاً معافی مانگ کر واپسی کا راستہ اختیار کیا، جن میں نمایاں ترین آج ایم کیو ایم کے ترجمان امین الحق اور سینیئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ہیں۔ بہت سے سابق اراکین اسمبلی اور کارکنان نے بھی دباؤ اور خطا کا عذر کرکے مرکز میں جگہ بنائی۔ اسی طرح آج بھی جانے والوں پر دباؤ کی باتیں نہایت وثوق سے کی جا رہی ہیں۔ اپریل 2018ء میں اراکین صوبائی اسمبلی جمال احمد اور نشاط ضیا قادری نے ایک پریس کانفرنس میں ’پاک سرزمین پارٹی‘ (پی ایس پی) میں شمولیت کے لیے شدید دباؤ کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی جان بھی لی جاسکتی ہے۔

حقیقی اور پی ایس پی کے وجود میں آنے میں ایک فرق یہ ہے کہ آج ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی اگرچہ 1992ء جیسی سخت نہیں، لیکن طویل ترین ضرور ہے۔ ماضی میں حکومتوں کی تبدیلی کے سبب یہ سلسلہ رک جاتا اور تنظیم کو کچھ سنبھلنے اور منظم ہونے کا موقع مل جاتا مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔

تب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اگرچہ جلاوطن ہوچکے تھے، لیکن ان کے بیانات کسی نہ کسی وسیلے اخبارات تک پہنچ رہے تھے، لیکن ’پی ایس پی‘ بننے سے قبل 2015ء میں ہی الطاف حسین کے بیانات شایع اور نشر ہونے پر پابندی عائد کی جاچکی تھی۔

مزید پڑھیے: ایم کیو ایم دفاتر کی 'ون وِنڈو سروس'

یہی نہیں ’پی ایس پی‘ کے فقط پانچ ماہ بعد ہی 22 اگست 2016ء کے ناخوش گوار واقعے کے بعد فاروق ستار کے زیرِ سایہ ایم کیو ایم نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان بھی کردیا۔ ایسا ہی ایک واقعہ تب چیئرمین ایم کیو ایم عظیم احمد طارق کی قیادت میں بھی ہوا لیکن وہ بہت محدود اور مختصر وقت کے لیے تھا۔ عظیم طارق نے قیادت دوبارہ الطاف حسین کے سپرد کردی تھی۔ پھر ان کا قتل ہوگیا۔

نائن زیرو پر چھاپہ اگرچہ اِس بار بھی پڑا اور نائن زیرو بند بھی ہے، لیکن اس کے ساتھ شہر بھر میں پھیلے ہوئے ایم کیو ایم کے سیکڑوں دفاتر غیر قانونی قرار دے کر مسمار کیے جاچکے ہیں، باقی ماندہ دفاتر بند ہیں۔

اس کے علاوہ سب سے بڑا عنصر تنظیم کی عمر، غلطیاں اور شہر کی صورت حال کا ہے۔ جیسے بڑی عمر میں ہونے والے مرض میں پیچدگیاں زیادہ ہوتی ہیں، اسی طرح ایم کیو ایم کے لیے صورت حال کسی بھی طرح 1992ء کے بعد جیسی نہیں۔ 1986ء میں معروف ہونے والی ایم کیو ایم اُس وقت گویا شباب پر تھی۔ کارکنان سے لے کر حامیوں تک کے جذبات اور وابستگی کی جو سطح تب تھی، یقیناً وہ آج نہیں ہے۔

اس کی ایک وجہ جہاں نوجوانوں کی ایک بالکل نئی پود کا سامنے آنا ہے، جو شاید اُس طرح نہیں سوچتی، جس طرح اُن سے پہلی نسل نے سوچا۔ آج وہ نوجوان بھی 18 سال کا ہے، جو الطاف حسین کے لندن جانے کے 8 برس بعد پیدا ہوا، اس لیے تنظیمی سطح پر قیادت سے دوری کا خلا تو آیا۔ پھر جدید ترین ذرائع اِبلاغ کے بہاؤ نے بھی خوب اپنے رنگ دکھائے ہیں۔ اطلاعات کے بلند آہنگ شور اور اچھی بُری خبروں کا پل جھپکتے میں پھیل جانے سے بھی بہت بڑا فرق پیدا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم میں داخلی انتشار، قیادت کی پے در پے غلطیاں، بدعنوانیاں اور مایوسیاں بھی بہت زیادہ کار فرما ہیں۔

جانیے: متحدہ قومی موومنٹ ایک ناکارہ مشین؟

پی ایس پی میں لوگوں کی شمولیت حقیقی کے برعکس بغیر کسی تشدد کے ہو رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں اگرچہ تناؤ اور گرما گرمی سامنے آرہی ہے، مگر مجموعی طور پر صورت حال پرامن رہی۔ اس کے علاوہ آفاق احمد کے برعکس مصطفیٰ کمال کی نظامت کی وجہ سے ایک سطح پر شہر بھر میں ہی ان کے لیے ایک قبولیت موجود ہے، جب کہ بہت سے لوگ ان کی نظامت کو ایم کیو ایم کی مرہون منت کہتے ہیں۔ پھر یہ اعتراض بھی تو جائز ہے کہ ساری اچھائیاں آپ خود رکھ لیں اور خرابیاں دوسری طرف پھینکتے چلے جائیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔

حقیقی کے ظہور کے بعد کی طرح الطاف حسین نے ایک بار پھر انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، اگرچہ ان سطور کے لکھے جانے تک ان کی کراچی میں موجود جماعت انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ بائیکاٹ کی اپیل کا اثر 1993ء جیسا نہیں ہوگا۔

ایم کیو ایم کی کراچی قیادت کے لیے یہ ایک بہت بڑا امتحان ضرور ہے اور 2013ء جتنی کامیابی اس بار ایم کیو ایم کو نہیں مل پائے گی، جس کی وجہ تنظیمی بحران کے ساتھ ساتھ کراچی کی نئی حلقہ بندیاں بھی ہیں۔

ایسے میں اپنے بدترین بحران اور مشکلات کی شکار متحدہ قومی موومنٹ کی نشستوں پر پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، پاک سرزمین پارٹی اور تحریک انصاف نقب لگا سکتے ہیں، لیکن اس بار کراچی کے انتخابی نتائج کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ نشستیں 5 سے 6 جماعتوں میں بٹ جائیں۔