بلوچستان کے علاقے حب میں ساحل سمندر گڈانی کے پکنک پوائنٹ پر نہاتے ہوئے خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد ڈوب گئے۔

پولیس کے مطابق ڈوبنے والوں میں 4 خواتین اور 2 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 4 خواتین کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ڈوبنے والے دیگر افراد کی لاشوں کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی کے 2 نوجوان پکنک کے دوران سمندر میں ڈوب کر ہلاک

پولیس نے مزید بتایا کہ گڈانی میں ڈوبنے والوں کا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے ہے۔

واقعے کی رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد متاثرہ خاندان کے عزیز و اقارب اپنے پیاروں کی میتیں وصول کرنے کے لیے گڈانی پہنچے۔

متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ 12 افراد پکنک منانے گڈانی گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے ساحل پر 4 افراد ڈوب گئے

بعد ازاں انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس امجد جاوید سلیمی نے گڈانی بلوچستان کے سمندر میں 7 افراد کے ڈوبنے کے واقعے کے تناظر میں پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ سندھ میں سمندر کی ساحلی پٹی کو ہر لحاظ سے محفوظ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے عائد دفعہ 144 پر عمل درآمد سختی سے کرایا جائے اور اس حوالے سے عوام کو باقاعدہ آگاہی فراہم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کے حوالے سے اختیار کردہ حکمت عملی ولائحہ عمل میں کوئی بھی غفلت یا لاپروائی ناقابل برداشت ہوگی۔

مزید پڑھیں: ساحل پر تفریح کے لیے جائیں لیکن اپنی حفاظت آپ کریں

خیال رہے کہ کراچی کے ساحل سمندر پر شہریوں کے نہانے پر پابندی عائد ہے لیکن پولیس فورس کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس پابندی پر عمل درآمد نہیں ہورہا جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد گرمی اور اسکول تعطیلات کے باعث پکنک منانے کے لیے ساحل سمندر کا رخ کرتی ہے۔

عوام کی جانب سے پابندی کو نظر انداز کرکے ساحل سمندر پر اعلانیہ خطرے کے باوجود نہانے کا عمل بھی جاری ہے۔