کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نے ہوم ڈیپارٹمنٹ سندھ سے موصول شدہ گمشدہ افراد کی فہرست کی روشنی میں مصدقہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے ملیر کے علاقے سے لیاری گینگ وار کے ایک ملزم اسداللہ کو گرفتار کیا۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا کہ ملزم اسد اللہ نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ 30 مئی 2016 کو اس نے 9ویں جماعت کے طالب علم یٰسین عرف منا کو ملیر کے علاقے امام بخش مارکیٹ سے اغوا کیا تھا۔

ملزم نے بتایا کہ اس نے اغوا کرنے کے بعد اس نے طالب علم کو درسانو چنہ علی حمل گوٹھ لیاری گینگ وار کے کارندوں کے حوالے کیا جنہوں نے اسی رات یٰسین عرف منا کو بدترین تشدد کے بعد پھندا ڈال کر قتل کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: لیاری: رینجرز پر دہشت گردوں کا حملہ، ایک اہلکار شہید، 3 زخمی

اعلامیے کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر لیاری گینگ وار کے دو اور کارندوں علی نواز اور لعل محمد عرف لالو کو بھی گرفتار کیا گیا۔

گینگ وار کے گرفتار ملزمان نے یٰسین کے قتل کا اعتراف کر تے ہوئے انکشاف کیا کہ مقتول یٰسین کو قتل کے بعد اس کی لاش کو قریب ہی زمین میں دفن کر دیا گیا تھا۔

ملزمان کی نشاندہی پر رینجرز اور پولیس کی مشترکہ تفتیشی ٹیم نے کھدائی کے بعد مقتول کی لاش کو درسانو چنہ علی حمل گوٹھ سے بر آمد کرلیا تھا۔

برآمد شدہ لاش سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرنے کے بعد اسے ٹیسٹ کے لیے بھجوایا گیا جس کی رپورٹ سے یہ ثابت ہوا کہ برآمد شدہ لاش مقتول یٰسین کی ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ رینجرز کی وردی تبدیل کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ مقتول کے والدین نے یٰسین کی گمشدگی کا کیس سندھ ہوئی کورٹ میں دائر کیا ہوا تھا جسے بعدازاں شواہد کی روشنی میں عدالت نے خارج کر دیا تھا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ گرفتار شدہ ملزمان سے کی جانے والی تفتیش سے یہ واضح ہواہے کہ یٰسین کو ملزمان نے 2016 میں ہی قتل کر دیا تھا۔

گرفتار شدہ تینوں ملزمان بدنام زمانہ لیاری گینگ وار کے غفور چھوٹو (ہلاک) اور مفرور سجاد گولو کے قریبی ساتھی ہیں جنہیں قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کیا جا چکا ہے۔