’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت‘

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2018

ای میل

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے عالمی دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ اسلام آباد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’بہت بڑی کامیابیاں‘ حاصل کیں اور ساتھ ہی زور دیا کہ دنیا سے دہشت گردی ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر مزید تعاون کی ضرورت ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوٹیرس کی سربراہی میں ہونے والی پہلی اعلیٰ سطح کی انسدادِ دہشت گردی کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔

’دہشت گردی کے خطرے کے خلاف بین الاقوامی تعاون کی مضبوطی‘ کے عنوان سے منعقد کی جانے والی مذکورہ کانفرنس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں کثیر الجہتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی دورِ حاضر کے سب سے بڑے سیکیورٹی چیلنجز ہیں، جو نہ صرف دنیا کے مختلف حصوں میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں بلکہ انہیں پروان بھی چڑھا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’بھارت، کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئےتصویر کے پیچھے چھپ رہا ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بڑی معاشی اور جانی قربانیاں دیں لیکن دہشت گرد پاکستانی قوم کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہے۔

پاکستانی مندوب کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلام آباد نے دنیا میں کسی بھی ملک سے بڑا انسدادِ دہشت گردی آپریشن کیا جس کے لیے پاکستان نے اپنی 2 لاکھ سے زائد مسلح فوج شورش زدہ علاقوں میں بھیجی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے رواں برس اپریل میں دنیا کا پہلا بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی فورم منعقد کیا جس میں دنیا بھر سے انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین، سیاسی رہنماؤں اور علماء کرام نے شرکت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اقوام متحدہ کی ’انسانی حقوق کونسل‘ کا رکن منتخب

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ پاکستان انسدادِ دہشت گردی اور اس حوالے سے قائم عدالتوں کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری آنٹونیو گواٹریس کا کہنا تھا کہ وہ ’شہریوں کو محفوظ رکھنے‘ کے عہد کو پورا کرنے کے لیے پُر عظم ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں مل کر ایسے طریقوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے جو قانون کی بالا دستی اور انسانی حقوق پر سمجھوتہ نہ کرے۔