سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں سندھ ہائی کورٹ کے جج کے قافلے کو مبینہ طور پر راستہ نہ دینے پر مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) صدر آصف احمد بُگھیو نے ڈان کو بتایا کہ ’جبران ناصر، جو آئندہ عام انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں، کلفٹن کے چوہدری خلیق الزمان روڈ پر ڈرائیونگ کررہے تھے جس دوران ہائی کورٹ کے جج کا قافلہ ان کی گاڑی کے پیچھے آیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جج کی سیکیورٹی اسکواڈ کے اہلکاروں نے جبران ناصر کو قافلے کو راستہ دینے کا اشارہ کیا، تاہم سماجی رہنما نے ایسا کرنے سے انکار کیا جس پر اسکواڈ کے چند اہلکاروں نے ان سے بدسلوکی کی اور انہیں فریئر پولیس اسٹیشن لے گئے۔‘

پولیس موبائل میں لے جاتے وقت جبران ناصر نے اپنے فیس بک پیج پر براہ راست ویڈیو شیئر کی، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ایک جج کا پروٹوکول مار کر اور کپڑے پھاڑ کر گھسیٹ کر لے جارہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ پروٹوکول نے ان کی گاڑی سڑک کنارے دبائی اور جب انہوں نے روکا تو انہیں بندوق کا چیمبر مارا گیا۔

ویڈیو ختم ہونے سے قبل دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس موبائل کے اندر سے ایک اہلکار جبران ناصر کا موبائل فون چھیننے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پولیس نے جبران ناصر کو رہا کردیا

ایس پی آصف احمد بُگھیو نے ڈان کو مزید بتایا کہ جج کو جبران ناصر کی شناخت ظاہر کرنے کے بعد انہیں پولیس اسٹیشن سے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

تاہم سماجی رہنما نے ان کی گاڑی ان کے حوالے کرنے اور ان سے معافی مانگے جانے تک تھانے سے جانے سے انکار کیا۔

دوسری جانب سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جنوبی عمر شاہد نے ڈان کو بتایا کہ واقعہ جبران ناصر کی جانب سے چوہدری خلیق الزمان روڈ پر جج کی گاڑی کو مبینہ طور پر ’بلاک‘ کرنے کے بعد پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ سماجی کارکن اب ’زبردستی‘ پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں اور خود کو گرفتار ظاہر کر رہے ہیں، حالانکہ ’ایسا نہیں ہے۔‘

’کراچی کی عوام کو آج تھپڑ لگا ہے‘

دوسری جانب پولیس اسٹیشن میں جبران ناصر نے صحافیوں اور فیس بک پر لائیو بات کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کے حوالے سے بتایا۔

ان کے مطابق انہوں نے نجی نیوز چینل کے دفتر سے واپسی پر وزیر اعلیٰ ہاؤس سے آگے بڑھے تھے کہ انہیں سیکیورٹی اہلکاروں کی راستے سے ہٹنے کی آوازیں آئیں، چونکہ وہ ٹریفک کے درمیان تھے، جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ نہیں سکتے تھے جس کے بعد سیکیورٹی پروٹوکول ان کی گاڑی کی طرف بڑھا اور انہیں داہنی جانب دھکیل دیا۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے سیکیورٹی اہلکاروں سے سوال کیا کہ مجھے کیون دھکیلا گیا تو سیکیورٹی اہلکاروں نے ان پر بندوق تان دی اور سائیڈ پر ہٹنے کی دھمکیاں دیں۔

جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ اگلے ٹریفک سگنل پر وہ جج کی گاڑی کے ساتھ کھڑے تھے جس پر انہوں نے گاڑی کے اندر جھانکنے کی کوشش کی تاکہ معلوم کرسکیں کہ کونسے جج کی گاڑی ہے جس پر سیکیورٹی اہلکار اپنی گاڑی سے اترے اور ان کے ساتھ تشدد کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ’جو تھپڑ آج مجھے پڑا ہے وہ کراچی کے نوجوانوں نے کھایا ہے‘۔

سماجی رہنما کا کہنا تھا کہ انہیں پروٹوکول کی گاڑی میں آدھے گھنٹے تک بیٹھا کر رکھا گیا جس کے بعد انہوں نے اہلکاروں کو بتایا کہ وہ خود ایک ہائی کورٹ کے وکیل ہیں جس کے بعد تمام گاڑیاں رک گئی تھیں اور انہیں جانے کا کہا گیا تھا کیونکہ جبران ناصر کے مطابق جج فیصل کمال تھے گاڑی میں جنہوں نے انہیں پہچان لیا تھا تاہم جبران ناصر نے جانے سے انکار کردیا اور کہا کہ اب مزید بات پولیس تھانے میں ہی ہوگی۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ پولیس تھانے میں میڈیا نمائندوں کے پہنچنے کے بعد ان سے تمیز سے پیش آیا گیا، انہوں نے پولیس کی ہدایت پر درخواست جمع کرادی ہے تاہم وہ میڈیکل ایگزامینیشن کے لیے پولیس کے لیٹر کا انتظار کر رہے ہیں۔