ای میل

سفرنامہ نیپال: برفیلی چوٹیوں اور دلکش مناظر کی سرزمین

شبینہ فراز

سفر نیپال کا درپیش تھا، لیکن قومی ایئر لائن کی زبوں حالی نے یہ دن دکھایا تھا کہ وہ سفر جو پی آئی اے کی پرواز سے 3 گھنٹے میں سمٹ جاتا، تھائی ایئر لائن سے پھیل کر 8 گھنٹوں پر محیط ہوگیا۔ اب ہمیں براستہ بینکاک نیپال جانا تھا۔ بینکاک میں 4 گھنٹے انتظار کا وقت کسی گنتی میں نہ تھا۔

گھر سے رات 9 بجے نکلے اور دوسرے دن 2 بجے کھٹمنڈو ایئر پورٹ پر سفر کا اختتام ہوا۔ سفر طویل ضرور تھا لیکن ہم سفر اچھے تھے۔ ہمارے ساتھ سدرہ اظہر ڈار، فرید رئیس، قسیم سعید اور ولید طارق تھے۔ سبھی ہنسنے بولنے والے پرخلوص لوگ تھے۔ زاہد براستہ دبئی نیپال پہنچے تھے۔ ان سب کا تعلق ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں سے تھا۔ ہمارے سوا ان سب کا یہ نیپال کا پہلا سفر تھا سو سب بہت پر جوش تھے۔

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں 5 ممالک (پاکستان، ہندوستان، افغانستان، چین اور نیپال) کے ماحولیاتی مسائل پر نمایاں کام کرنے والے صحافی مدعو تھے۔ یہاں دریائے سندھ کے حوالے سے ایک مذاکرے کا اہتمام تھا۔ دریائے سندھ دنیا کے بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے جس کا پانی مشترکہ طور پر 4 ممالک استعمال کرتے ہیں۔

نیپال میں ہماری آمد—تصویر شبینہ فراز
نیپال میں ہماری آمد—تصویر شبینہ فراز

دریائے سندھ کا طاس یا بیسن 1.12 مربعہ میٹر فی کلومیٹر ہے۔ جس کا 47 فیصد پاکستان میں، 39 فیصد ہندوستان میں، 8فیصد چین میں اور 6 فیصد حصہ افغانستان میں ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں اس طاس کا 63 فیصد پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ مذاکرے میں ’دریائے سندھ کے آبی وسائل کو کس طرح پائیدار بنیادوں پر استعمال کیا جاسکتا ہے‘ پر تبادلہء خیال کیا گیا اور اس پر بھی غور کیا گیا کہ کس طرح ایک صحافی قلم کے ذریعے ان مسائل پر ایک ذمے دارانہ کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ پاکستان اور پڑوسی ممالک کے مابین یہ موضوع انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔

ماحولیاتی کانفرنسوں اور تربیتی ورکشاپوں میں شرکت کی غرض سے ہمیں دنیا کے کئی ممالک دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جنوبی ایشیائی ممالک کے بھی اکثر شہروں میں جانا ہوا۔ ان میں بہت سی باتیں مشترک نظر آتی ہیں۔ غربت، وسائل کی اپنے ہاتھوں سے بربادی، بنیادی ڈھانچوں کا عدم استحکام اور غیر ملکی طاقتوں کا تسلط وغیرہ۔ نیپال کا دارالحکومت کھٹمنڈو بھی ایک ایسا ہی شہر ہے، ہمیں یہاں جانے کا 3 بار موقع ملا۔ شہر کو بہت قریب سے دیکھا۔

نیپال کی نگری—تصویر شبینہ فراز
نیپال کی نگری—تصویر شبینہ فراز

پہلی بار 2013ء میں نیپال آنا ہوا تھا، اس وقت ہمیں یہاں ہندوستان کا بہت زیادہ تسلط نظر آرہا تھا۔ ہندوستانی لوگ جگہ جگہ دکانیں کھولے بھاؤ تاؤ کرتے نظر آتے، کھانے پینے کی جگہوں پر بھی ہندوستانی اکثریت غالب تھی۔ تجارتی سامان بھی زیادہ تر وہیں سے ہی آتا۔ ہندوستان کے لوگوں کے لیے ویزہ کی بھی کوئی پابندی نہیں تھی (یہ سہولت ابھی تک ہے)۔پاکستانیوں کے لیے بھی یہ سہولت موجود ہے کہ انہیں کھٹمنڈو ایئر پورٹ پر ہی ویزا مل جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کھٹمنڈو ایئر پورٹ سے حاصل ہونے والے اس ویزے کی کوئی فیس نہیں لی جاتی لیکن اگر آپ پاکستان میں موجود نیپال کے سفارت خانے سے ویزہ حاصل کریں تو 2700 پاکستانی روپے بطور فیس دینے پڑتے ہیں۔ ہماری ایک ساتھی اس تجربے سے گزری تھیں۔

نیپال اگرچہ پاکستان سے بہت چھوٹا ملک ہے لیکن پھر بھی اس کی کرنسی ہماری کرنسی سے زیادہ مستحکم ہے۔ ہمارے 124 روپے ایک ڈالر کے برابر ہیں جبکہ نیپالی 107 روپے ایک ڈالر کے برابر ہیں۔ اب اس کی کیا وجہ ہے یہ معیشت داں ہی بہتر سمجھا سکتے ہیں۔نیپالی کرنسی بھی روپے ہی کے نام سے جانی جاتی ہے۔

نیشنل آرٹ میوزیم نیپال—تصویر شبینہ فراز
نیشنل آرٹ میوزیم نیپال—تصویر شبینہ فراز

ہمیں یاد ہے کہ جب دوسری بار 2016ء میں نیپال آمد ہوئی تھی تب نیپال کچھ بدلتا ہوا محسوس ہوا۔ وہاں کے ہندوستانی تسلط کے خلاف دبی دبی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔2015ء دراصل نیپال کی تاریخ کا اہم سال تھا۔ اس سال ہندوستان نے نیپال کو پیٹرول کی سپلائی بند کردی یوں یہاں پیٹرول کا شدید بحران پیدا ہوگیا تھا، بندش کی وجہ یہ تھی کہ مودی سرکار کے نزدیک نیپالی ہی بہار میں ان کی شکست کی وجہ تھے۔

ایک مہینے پیٹرول کی بندش کے بعد چین نے تیل فراہم کرنا شروع کردیا تھا۔ نیپالیوں پر اس واقعے کا بہت اثر ہوا اور پہلی بار ہندوستانی تسلط کے حوالے سے نیپالی عوام سنجیدگی سے سوچنے لگے۔

کھٹمنڈو ایئر پورٹ قریب آتے ہی جب طیارہ اپنی بلندی کچھ کم کرکے نیچے آتا ہے تو چاروں جانب اونچے اونچے پہاڑ نظر آتے ہیں، چوٹیاں برف کا دوشالہ اوڑھے کھڑی نظر آتی ہیں۔ ان ہی میں سے کوئی دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ بھی تھی۔ کھٹمنڈو ایئر پورٹ چونکہ پہاڑوں میں گِھرا ہوا ہے اس لیے یہاں لینڈنگ زیادہ آسان کام ہے۔ پائلٹ کو بہت مہارت سے جہاز اتارنا ہوتا ہے۔ ہمارا جہاز بھی ائرپورٹ پر اترنے کے اعلان کے بعد بھی کوئی 20 منٹ تک فضاؤں میں چکر لگاتا رہا پھر بالآخر جب پہیوں نے زمین کو چھوا تو مسافروں نے تالیاں بجا کر پائلٹ کو داد دی۔

کھٹمنڈو شہر ہمارے کوئٹہ شہر کی طرح پہاڑوں میں گھری ایک پیالہ نما وادی ہے۔ دیگر ایشیائی شہروں کی طرح یہاں کی فضا بھی خاصی آلودہ ہے۔ پہاڑوں میں گھری ہونے کے باعث اس وادی سے دھواں، دھول اتنی آسانی سے نہیں نکلتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں لوگ اکثر آلودگی سے بچنے کے لیے ماسک لگائے پھرتے ہیں۔ پیدل چلنے والے اور موٹرسائیکل سوار زیادہ تر لوگ ماسک لگائے نظر آئے، یہاں موٹر سائیکل چلاتی لڑکیاں عام نظر آتی ہیں۔ اکثر مرد حضرات تو موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے نظر آئے۔

موٹر سائیکل چلا رہی ایک نیپالی خاتون—تصویر شبینہ فراز
موٹر سائیکل چلا رہی ایک نیپالی خاتون—تصویر شبینہ فراز

ہمارا قیام کھٹمنڈو کے علاقے للت پور کی ایک ہوٹل میں تھا۔ سرسبز درختوں سے گھرا وہ ہوٹل سبھی دوستوں کو بہت پسند آیا۔ مذاکرہ اگلے دن تھا اور آج ہمارے پاس شام کا وقت تھا، ہمارے ساتھی پہلی بار کھٹمنڈو آئے تھے سوچا کہ شہر دیکھا جائے۔ ہمارے مشورے پر تھامل مارکیٹ کا رخ کیا گیا۔ یہ بھی طے ہوا کہ پیدل چلا جائے تاکہ شہر دیکھنے کا بھرپور موقع ملے، راستے میں ہمیں نیپالی ثقافت کے رنگ دیکھنے کو ملے۔

ہمیں سب سے زیادہ متاثر اس بات نے کیا کہ یہاں خواتین بغیر کسی عار کے ہر قسم کے کام کررہی تھیں۔ سبزیوں کے ٹھیلے اور ٹھیے پر خواتین تھیں، ایک جگہ ایک بوڑھی عورت بھنے ہوئے بھٹے بیچ رہی تھی، ایک جگہ ایک خاتون خوانچہ لگائے ہوئے پکوڑے، بیسن کے ساتھ تلی ہوئی مچھلی اور ابلے ہوئے انڈے بیچ رہی تھی۔ راستے میں جگہ جگہ سڑک کنارے چھوٹے چھوٹے مندر نظر آتے ہیں جن میں آپ مختلف ہندو دیوتاؤں کی شبیہات کو ایستادہ دیکھ سکتے ہیں۔ جس طرح استنبول کو مسجدوں کا شہر کہا جاتا ہے اسی طرح کھٹمنڈو کو بجا طور پر مندروں کا شہر کہا جاسکتا ہے۔

پکوڑے، تلی ہوئی مچھلی اور ابلے ہوئے انڈے فروخت کر رہی ایک نیپالی خاتون—تصویر شبینہ فراز
پکوڑے، تلی ہوئی مچھلی اور ابلے ہوئے انڈے فروخت کر رہی ایک نیپالی خاتون—تصویر شبینہ فراز

بھٹہ بیچ رہی ایک نیپالی خاتون—تصویر شبینہ فراز
بھٹہ بیچ رہی ایک نیپالی خاتون—تصویر شبینہ فراز

سبزی فروش ایک نیپالی خاتون—تصویر شبینہ فراز
سبزی فروش ایک نیپالی خاتون—تصویر شبینہ فراز

یہاں ہندوستان کے اکثر بڑے مندروں کی نقول تعمیر کی گئیں ہیں، ان میں درگا ماتا، کالی ماتا، پشپاتی ناتھ، سوامبھو ناتھ مندر قابل ذکر ہیں، اس کے علاوہ بدھ ناتھ ٹیمپل بھی مشہور ہے۔

ہندوستان سے تعلق رکھنے والے سدھیر مشرا کے مطابق ہندوستان ہندو ملک نہیں ہے بلکہ ایک لبرل ملک ہے جبکہ ہندو ملک تو نیپال ہے۔ مندروں کی بہتات ان کا دعوی درست ثابت کررہی تھی۔ نیپال میں مذہب کے حوالے سے بدھ مت اور ہندو مت دونوں کی پیروی کی جاتی ہے۔ ہماری ایک نیپالی دوست پرمیلا کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں پتہ کہ آیا ہم بدھ ہیں یا ہندو لیکن ہم دونوں مذاہب کی عبادت گاہوں میں جاتے ہیں۔

راستے میں ہمیں بہار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ملے، جو گول گپے یا انڈیا کی پانی پوری بیچ رہے تھے، ایک پلیٹ 25 (نیپالی) روپے کی تھی جس میں 8 گول گپے آتے۔ ہم نے یہ گول گپے کھائے جو بلاشبہ بہت مزے دار تھے۔

راستے میں ایک دھرم شالہ کو بھی دیکھنے کا موقع ملا جہاں بندروں کی بہتات تھی۔ ہم نے ان کی تصاویر لینی شروع کیں تو وہ سب بھاگ اٹھے۔ راستے میں جگہ جگہ دکانوں پر ہندی نام نظر آتے۔ ایک مٹھائی کی دکان کا نام گلاب جامن کے نام پر ’گلاب‘ تھا۔ ایک لائبریری پر بھی بھارت لائبریری کا بورڈ آویزاں تھا۔ ہمارے ہوٹل کے قریب ایک ’کیفے نمونہ‘ تھا جسے آتے جاتے دیکھ کر ہم سب ہنس پڑتے۔

ہماری ہنسی کا باعث بننے والا کیفے کا ایک بورڈ—تصویر شبینہ فراز
ہماری ہنسی کا باعث بننے والا کیفے کا ایک بورڈ—تصویر شبینہ فراز

ایک دھرم شالا کے قریب بیٹھی مادہ بندر—تصویر شبینہ فراز
ایک دھرم شالا کے قریب بیٹھی مادہ بندر—تصویر شبینہ فراز

شام کا وقت تھا، سڑکوں پرٹریفک بہت تھا اور ہماری منزل تھامل مارکیٹ ابھی تک نہیں آئی تھی۔ ہمیں چلتے ہوئے 2 گھنٹے ہوچکے تھے لیکن ہم ہنوز منزل سے اتنے ہی دور تھے۔

خواتین کی ہمت اب جواب دے چکی تھی لہٰذا 2 ٹیکسیاں کی گئیں، 400 نیپالی روپے میں ہم تھامل مارکیٹ پہنچ گئے۔ یہ ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے جہاں ہر شے مل جاتی ہے، خصوصاً یہاں نیپال کی خصوصی سوغات شالوں کی بے تحاشا دکانیں ہیں۔

پہلی بار جب ہم کھٹمنڈو آئے تھے تو ہماری ملاقات ہندوستانی دکان داروں سے ہوئی تھی جن میں ایک سنیتا دیدی بھی تھیں، جنہوں نے ہماری خاصی آؤ بھگت کی لیکن اس بار ہمیں ہندوستانی دکان دار خال خال ہی نظر آئے۔

نیپال کی خصوصی سوغات یہاں کی شالیں ہیں—تصویر شبینہ فراز
نیپال کی خصوصی سوغات یہاں کی شالیں ہیں—تصویر شبینہ فراز

نیپال کی خاص سوغات شالیں ہی ہیں لہٰذا کوئی یہاں آئے اور شال نہ خریدے ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہمارے ساتھیوں کو شالیں خریدنی تھیں، ہم تو پہلی بار یہاں آئے تھے تو سب کے لیے خرید کر لے جاچکے تھے لہٰذا اس بار اس کھٹراگ سے آزاد تھے۔

مختلف دکانوں پر گھومتے گھامتے خریداری کے لیے ایک دکان کا انتخاب کیا گیا، اس دکان کے مالک سری نگر کے محمد صہیب تھے، جن کا خاندان 30 سال پہلے کھٹمنڈو آ کر آباد ہوا تھا۔ انہوں نے اصلی پشمینہ کی شالیں بھی دکھائیں جن کی قیمت 10 ہزار نیپالی روپے سے شروع ہوتی ہے۔ یہ سب شالیں مقبوضہ کشمیر سے تیار ہوکر آتی ہیں۔

شالوں کے علاوہ یہاں کی اہم سوغاتوں میں قیمتی پتھر اور چائے کی مختلف اقسام شامل ہیں جن میں سیاح بہت دلچسپی لیتے ہیں۔

نیپال میں سنگ تراشی کے نہایت خوبصورت نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں—تصویر شبینہ فراز
نیپال میں سنگ تراشی کے نہایت خوبصورت نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں—تصویر شبینہ فراز

نیپال میں آوارہ گردی—تصویر شبینہ فراز
نیپال میں آوارہ گردی—تصویر شبینہ فراز

نیپال کی معیشت کا انحصار زیادہ تر سیاحت پر ہے، یہاں کی سب سے بڑی کشش دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ ہے۔ اس کی بلندی 29029 فٹ یا 8848 میٹر ہے۔ نیپال کے محکمہء سیاحت کے مطابق ہر سال کوہِ پیمائی کی کم و بیش 30 ٹیمیں دنیا کی اس بلند ترین چوٹی سر کرنے جاتی ہیں۔

شنید ہے کہ اس وقت ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی کے حوالے سے کم از کم ایک لاکھ ڈالر خرچ آتا ہے۔ نیپال میں ایک پرواز کا اہتمام کیا جاتا ہے جسے ایورسٹ فلائٹ کہتے ہیں، پائلٹ جہاز کو ماؤنٹ ایورسٹ چوٹی کے قریب لے جاتا ہے تاکہ مسافر دنیا کی اس بلند ترین چوٹی کا نظارہ کرسکیں۔ اس فلائٹ کا ٹکٹ 2013ء میں 100 ڈالر کا تھا، اس وقت ہم یہ تجربہ کرنا چاہ رہے تھے لیکن موسم سازگار نہ تھا۔

یہاں کی اکثر آبادی بدھ اور ہندو مت کی پیروکار ہے—تصویر شبینہ فراز
یہاں کی اکثر آبادی بدھ اور ہندو مت کی پیروکار ہے—تصویر شبینہ فراز

سیاحوں کے لیے نیپال میں ایک اور کشش کا باعث دریا ’بھوٹے کوشی‘ ہے۔ یہ دریا چین کے علاقے تبت سے نکلتا ہے اور جھاگ اڑاتا، پہاڑوں سے ٹکراتا، ہمالیہ کے پہاڑوں سے نیپال میں داخل ہوتا ہے۔ یہ دریا بھوٹے کوشی نیپال کے سفید پانیوں والے اور کشتیوں کی مہم جوئی (رافٹنگ) کے لیے مشہور 7 دریاؤں میں سے ایک ہے، چونکہ اس دریا کا ماخذ ہمالیہ پہاڑی سلسلے کی پگھلتی برف ہے، اسی لیے اس کا پانی انتہائی صاف اور شفاف ہے۔

ہمیں بھی یہ دریا دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ بلاشبہ شفاف دودھیا پانی کا حامل شور مچاتا، جھاگ اڑاتا ایک پر ہیبت دریا ہے۔ سیاحتی ذرائع کے مطابق نیپال کی سیاحتی صنعت کا حجم ایک ارب ڈالر بنتا ہے۔ وائٹ واٹر رافٹنگ یا ربر کی کشتیوں میں دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ اوپر سے نیچے آنے کے لیے ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ سیاح نیپال آتے ہیں۔ نیپال کی ایک خاص بات یہاں کے تعمیراتی فن کا شاہکار مندر بھی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مندر ہندوستان کے مشہور مندروں کی نقالی ہیں، یہ بھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

نیپال میں واقع ایک قدیم مندر—تصویر شبینہ فراز
نیپال میں واقع ایک قدیم مندر—تصویر شبینہ فراز

نیپال میں قدم قدم پر مندر نظر آجاتے ہیں—تصویر شبینہ فراز
نیپال میں قدم قدم پر مندر نظر آجاتے ہیں—تصویر شبینہ فراز

ایک حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ جب بھی ہندوستان اور پاکستان کے صحافی ملتے ہیں تو گھل مل جاتے ہیں، ایک فطری کشش ہے جو دونوں ممالک کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شاید مشترکہ ماضی اور مشترکہ زبان کی کشش انہیں باندھ لیتی ہے، کئی بار ایسا تجربہ ہوچکا ہے۔ ہندوستانی صحافیوں میں ہمارے ساتھ لکھنؤ کے سدھیر مشرا، پٹنہ کے عمران خان اور دہلی کی میناکشی موجود تھیں، پاکستانی اور ہندوستانی صحافیوں کا اکثر وقت ساتھ ہی گزرا۔ رات کے کھانے کا مسئلہ کچھ یوں حل کیا کہ تھامل میں ہی ایک ہندوستانی مسلمان کا ہوٹل ڈھونڈ لیا۔ ہندوستانی دوست بھی ہمارے ساتھ تھے، پچھلی بار جب ہم کھٹمنڈو گئے تھے تو ہم نے ایک سکھ کا ڈھابا ڈھونڈ لیا تھا جہاں بغیر گوشت کے مزے دار کھانے دستیاب تھے۔

اگلا پورا دن سیشن کی نذر ہوا، پانچوں ممالک کے آبی ماہرین نے دریائے سندھ کے طاس کی صورت حال پر روشنی ڈالی اور لاحق مسائل پر تبادلہ ء خیال کیا۔ اگلا دن فیلڈ وزٹ کے لیے مخصوص تھا۔ سب سے پہلے ہمیں شہر کے اندر سے گزرتی بھاگ متی ندی کا معائنہ کروایا گیا، یوں کہہ سکتے ہیں کہ کھٹمنڈو بھاگ متی ندی کے کنارے آباد ہے بلکہ 5 دہائیاں قبل یہ پورا ایک دریا تھا۔ اس کے ساتھ نیپالیوں نے وہی سلوک کیا ہے جو ہم نے لیاری اور ملیر ندی کے ساتھ کیا ہے۔ پھر ہم ایک آب گاہ بھی دیکھنے گئے جو 3 گھنٹے کی مسافت پر ہمالیہ کی وادیوں میں کہیں روپوش تھی۔ یہ فلک بوس پہاڑوں، تنگ گھاٹیوں اور سرسبز وادیوں کا سفر تھا، کہیں لینڈ اسکیپ مری جیسا تھا تو کہیں سوات جیسا۔

ایک رات ہمارے لیے آفیشل ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ ہمیں کھٹمنڈو کے ثقافتی رنگ لیے ایک قدیم ہوٹل میں لے جایا گیا جس کی عمارت 100 سال پرانی تھی۔ کھانا بہت سادہ لیکن پیش کرنے کا انداز بہت خوبصورت تھا۔ باری باری چیزیں لائی جارہی تھیں، دال چاول کا ہر جگہ خصوصی انتظام ہوتا ہے تاکہ حلال کھانوں کے حوالے سے حساس لوگ بھی کھا سکیں۔یہاں کئی گروپس نے نیپالی رقص اور موسیقی بھی پیش کی۔

نیپال کو مندروں کا شہر غلط نہ ہوگا—تصویر شبینہ فراز
نیپال کو مندروں کا شہر غلط نہ ہوگا—تصویر شبینہ فراز

اگلے دن ہماری واپسی کی فلائٹ شام کو تھی اور اس بار ہمیں براستہ دبئی کراچی جانا تھا۔ گویا ہمارے پاس آدھا دن تھا ہم کھٹمنڈو کی مزید سیر کرسکتے تھے۔ ہمارے مشورے پر بختاپور کا رخ کیا گیا جہاں نیپال کے بادشاہوں کے محلات اور مشہور مندر موجود ہیں۔

2015ء کے زلزلے نے ان یادگاروں کو بری طرح سے نقصان پہنچایا ہے، یہی وجہ ہے کہ ابھی تک تعمیر کا کام جاری ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ نیپال نے بہت کم غیر ملکی امداد قبول کی ہے۔ ایک زیر تعمیر مندر پر آویزاں بینر پر چندہ دینے والوں کے نام اور رقوم درج تھیں جو بہت کم تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ زلزلے نے 100 کے قریب تاریخی عمارات کو نقصان پہنچایا جو نیپال کا ثقافتی ورثہ تھیں۔

یہاں ہم نے جو تاریخی اور اہم عمارات دیکھیں ان میں دربار اسکوائر، درگا متی مندر، 55 کھڑکیوں والا شاہی محل، نیاتاپول مندر، پشو پاتاتھ مندر، بختاپور دربار اسکوائر وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے کسی بھی عمارت کی قدامت سو سال سے کم نہیں ہے۔ زلزلے میں بہت سی عمارات مکمل طور پر تباہ ہوگئیں اور کچھ کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔

2015ء کے زلزلے میں بہت سی عمارات مکمل طور پر تباہ ہوگئیں اور کچھ کو جزوی طور پر نقصان پہنچا—تصویر شبینہ فراز
2015ء کے زلزلے میں بہت سی عمارات مکمل طور پر تباہ ہوگئیں اور کچھ کو جزوی طور پر نقصان پہنچا—تصویر شبینہ فراز

کھٹمنڈو میں گزارے ہوئے ہمارے دن بہت ہی شاندار تھے۔ 5 مختلف ممالک کے صحافی یہاں جمع تھے لیکن حکومتوں کے تنازعات کے باوجود سب نے انتہائی دوستانہ ماحول میں وقت گزارا۔ لکھنو سے آئے سدھیر مشرا نے ایک خوبصورت تحریر اپنی فیس بک وال پر لکھی جو کچھ یوں ہے۔

’ایسی محفلیں بہت کم ہوتی ہیں کہ جہاں یہ خوبصورت دوستانہ بحث چل رہی ہوکہ کراچی کا حلوہ بہتر ہے یا کلکتہ کے رس گلے، اور یہ کہ پاکستان میں اب بھی سالیاں شادیوں میں دولہے کے جوتے چراتی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان پاکستان میں آم کی ایک جیسی اقسام پائی جاتی ہیں۔

’چین کی صحافی دوستیں اس لیے ناخوش تھیں کہ میں میسی کے بجائے رونالڈو کی تعریف کیوں کررہا ہوں اور پھر جب نیپالی گیت گایا گیا تو اس پر افغان صحافی ناچ رہے تھے۔ ہندوستانیوں نے بھی گیت گائے لیکن پاکستانیوں نے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ ہمارے نصرت فتح علی اور راحت فتح علی اتنے مہان گائیک ہیں کہ ہم ان کی نقل بھی نہیں کرسکتے۔ اس رات نیپالی کھانا تھا، موسیقی تھی، محبتیں تھیں، ہنسی تھی، قہقہے تھے، اور کھٹمنڈو کی اس خوبصورت رات کی اس خوبصورت محفل میں صرف ایک سوال ذہن میں الجھ رہا تھا کہ پھر یہ دنیا خوبصورت کیوں نہیں ہے؟‘


شبینہ فراز سینئر صحافی ہیں، پچھلے 15 برسوں سے ماحولیات کے موضوع پر لکھ رہی ہیں۔ آپ کو مختلف ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ آپ غیر ملکی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز رکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف بین الاقوامی فیلو شپ بھی حاصل کرچکی ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔