کوئٹہ: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور دیگر اہم ترقیاتی منصوبوں کو کرپشن سے پاک رکھنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہیں گے۔

بلوچستان میں نیب افسران کے اجلاس میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی اور بقاء بلوچستان کے استحکام میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے رخشان ڈویژن میں سیاسی کھچڑی

اجلاس میں بلوچستان سے نیب افسران نے جاوید اقبال کو نیب کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی اور صوبے میں انسداد کرپشن کے حوالے سے مختلف مسائل زیر بحث آئے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ سی پیک ناصرف پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے لیے بہت اہم ہے بلکہ یہ خطے میں غیر معمولی تبدیلی کا حامل منصوبہ بھی ہے۔

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نیب ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے اور کرپٹ لوگوں کے خلاف اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگا۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کا بلوچستان میں 6 مزدوروں کی ہلاکت پر ازخود نوٹس

انہوں نے مزید کہا کہ ’نیب کرپشن کیسز کی نوعیت پر غور کرتی ہے جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نیب کی ساری توجہ بعض چہروں پر ہوتی ہے‘، نیب قانون کے دائرے کار میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے رہی ہے اور منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں عمل میں لا کر قومی خزانے میں لوٹی ہوئی رقم واپس لائی جائے گی‘۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے عندیہ دیا کہ بلوچستان کی اقتصادی ترقی میں پٹ فیڈرل کنال کی تعمیر کلیدی ہے اور نیب پرعزم ہے کہ پٹ فیڈرل کنال کیس میں ملوث کرپٹ افسران اور ذمہ داران کے خلاف انکوائری کی جائے گی۔

نیب چیئرمین نے حکام کو ہدایت کی کہ میگا کرپشن کیسز کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: صوبائی حکومت کی بلوچستان میں مصنوعی بارش برسانے کی منظوری

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے متعدد میگاکرپشن مقدمات میں ملوث افراد سے لوٹی ہوئی رقم واپس لے کر صوبائی حکومت کے خزانے میں جمع کرائی گی۔

تاہم انہوں نے نیب کے حوالے اس تاثر کو قطعی رد کیا کہ نیب 25 جولائی کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے مخصوص لوگوں کے خلاف کارروائیاں کررہا ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ’نیب کا انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں‘۔


یہ خبر 10 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی