اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے 24 ہزار ارب روپے سے زائد کے ملکی قرضے کی ادائیگی کے لیے مہم چلانے کا عندیہ دے دیا بلکل اس ہی طرح جیسے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈز کے لیے مہم کا آغاز کیا گیا۔

نجی بینکوں کی جانب سے دونوں ڈیمز کے فنڈز کے لیے اشتہاری مہم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیا کہ ’ملکی قرضہ اتارنے کے بارے میں مہم شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیموں کی تعمیر کیلئے پیسہ دینے والوں کے ہاتھ چومنے چاہئیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے یہ اعلان مقدمے کی سماعت کے دوران اس وقرت کیا جب فنانس سیکریٹری عارف احمد خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اس وقت ملک 24 ہزار 400 ارب روپے کا مقروض ہے‘۔

واضح رہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے ملک میں ڈیمز کی تعمیر کے سلسلے میں ’دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم فنڈ-2018‘ کے عنوان سے فنڈز اکھٹے کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولا جاچکا ہے۔

مذکورہ اکاؤنٹ سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت، واپڈا اور دیگر اعلیٰ حکام کو دیے گئے خصوصی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے کھولا گیا۔

مزید پڑھیں: ’ڈیمز کی تعمیر کیلئے جمع ہونے والے فنڈز کسی کو کھانے نہیں دیں گے‘

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے ان دونوں ڈیمز کی تعمیر کے سلسلے میں فنڈ اکھٹے کرنے کے لیے کھولے گئے اکاؤنٹ کا نمبر 03-593-299999-001-4 ہے جبکہ آئی بی این نمبر PK06SBPP0035932999990014 ہے۔

عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا کہ چار میڈیا کمپنیاں ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز سے متعلق مہم چلا رہی ہیں۔

آڈیٹر جنرل نے کہا کہ موبی لنک اور ٹیلی نار نے اشتہارات کے ذریعے بتایا کہ ڈیمز کے لیے فنڈز ایزی پیسہ اور جاز پیسہ کے ذریعے بھی اکاؤنٹ میں منتقل کرائے جا سکتے ہیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ وزارت اطلاعات نے مذکورہ اشتہار اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان ٹیلی کمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور الیکڑونک میڈیا ریگولیٹری اتھارتی (پیمرا) کے ساتھ مشاورت کے بعد بنایا گیا تاکہ عوامی سطح آگاہی کا دائرہ وسیع ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ’ ڈیم بنانے کے لیے اب سپریم کورٹ کردار ادا کرے گی‘

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ اشتہار میڈیا پر مفت نشر اور شائع کیے جائیں گے۔

اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وزارت قانون کو ہدایت دی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ مل کر ایسا آرڈنینس تیار کریں جس کے تحت ڈیمز کی تعمیر کے لیے دیئے جانے والا فنڈز ٹیکس کی کٹوتی سے مستثنیٰ ہو۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی انفرادی شخص یا گروپ فنڈز جمع نہیں کرسکتا۔