احتساب عدالت کے فیصلے سے متعلق نیب آرڈیننس کا دائرہ کار دیکھنا ہوگا، لاہورہائیکورٹ

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2018

ای میل

لاہور ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف لائیز فاؤنڈیشن فار جسٹس کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ فیصلہ قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس کے دائرہ کار میں آتا بھی ہے یا نہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے پر لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس کی درخواست پر سماعت کی۔

اس دوران درخواست گزار کے وکیل ’اے کے ڈوگر‘ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ احتساب عدالت، نواز شریف اور دیگر کو سزائیں دینے کی اہل ہے، جس پر جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ آپ جس فیصلے کو معطل کروانا چاہ رہے ہیں وہ فیصلہ کہاں ہے؟

مزید پڑھیں: نواز شریف کو 10، مریم نواز کو 7 سال قید بامشقت

جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ دیکھنا پڑے گا کہ آیا فیصلہ نیب آرڈیننس کے دائرہ کار میں آتا بھی ہے یا نہیں، فیصلے کی نقل میرے سامنے ہوں گی تو دیکھ سکوں گا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کی نقل ساتھ لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کا قانون 18 ویں ترمیم کے بعد ختم ہوچکا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ ملک کے 3 مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو اس قانون کے تحت سزا دی گئی جو ختم ہو چکا ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کو مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا غیر قانونی ہے، لہٰذا عدالت نیب کے مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا کو کالعدم قرار دے۔

احتساب عدالت کا فیصلہ

خیال رہے کہ 6 جولائی کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

اس کے علاوہ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے مطابق نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات پر مریم نواز کو والد کے اس جرم میں ساتھ دینے پر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں تھیں جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق تحقیقات میں نیب کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر علیحدہ ایک، ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس طرح مجموعی طور پر نواز شریف کو 11 اور مریم کو 8 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔