پیپلز پارٹی نے انتخابات 2018 کو متنازع قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2018

ای میل

اسلام آباد: سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) مرکزی کے رہنما میاں رضا ربانی نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو متنازع قرار دے دیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ عام انتخابات وقت سے قبل ہی متنازع ہو چکے ہیں جس کی وجہ انتخابی عمل میں مداخلت اور الیکشن کمیشن کے آئینی کردار میں ناکامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو انتخابات منعقد نہ ہونے اور ان کے ملتوی کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘پسندیدہ نتائج کیلئے انتخاب میں تاخیر ملک کیلئے تاریکی دور ہوگا‘

سابق صدرِ مملک جنرل (ر) پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے ایک آمر کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی، آرٹیکل 6 کے مجرم کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف ملک میں واپس نہیں آئے جس پر فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔

پولنگ کا وقت بڑھانے کے معاملے پر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ایک جماعت کے کہنے پر کس طرح پولنگ کا وقت بڑھا دیا گیا؟

الیکشن کمیشن حکام کو سینیٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ

سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے الیکشن کمیشن کے حکام کو بریفنگ کے لیے سینیٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں فوج کی تعیناتی اور انہیں اختیارات دینا ایک اہم معاملہ ہے، تاہم الیکشن کمیشن فوج کو دیے گئے اختیارات سے متعلق ایوانِ بالا کو اعتماد میں لے۔

سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے انتخابات میں مداخلت سے متعلق بیان دیا اور پھر اسے واپس لے لیا لہٰذا یہ جاننا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنا بیان واپس کیوں لیا۔

امیدواروں پر دباؤ ڈالنے پر تشویش

سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں پر انتخابات سے دستبردار ہونے یا پھر سیاسی جماعت تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے جس پر پارٹی کو تشویش ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ نگراں حکومت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے اور ان کے وزیر آکر بتائیں کہ ان کے انتخابی امیدواروں پر دباؤ کیوں ڈالا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق درخواستیں مسترد

پیپلز پارٹی کے رہنما نے قومی احتساب بیورو (نیب) پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو صرف 2 جماعتیں نظر آ رہی ہیں جبکہ اسے تیسری جماعت نظر نہیں آ رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوٹے وفاداری تبدیل کر کے دوسری پارٹی میں گئے کیا وہ پاک ہوگئے ہیں؟ ان کا احتساب کیوں نہیں کیا جارہا؟‘

اپنے تحفظات سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا، شیری رحمٰن

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی میاں رضا ربانی کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہمارے لوگوں پر وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا، جبکہ ہماری جماعت کو انتخابی مہم سے روکا جارہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں کو نوازا جا رہا ہے جبکہ بعض جماعتوں پر علیحدہ سے قانون لاگو کیا جا رہا ہے، ہم نے اپنے ان تحفظات سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا ہے۔