پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) میں درخواست جمع کرادی گئی۔

سابق وزیر اطلاعات کے خلاف جمع کرائی گئی درخواست میں ان پر اختیارات کا غلط استعمال اور اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ مریم اورنگزیب نے اسلام آباد کے علاقے ایف 7 اور ای 11 میں جائیدادیں خریدیں جبکہ ان پر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کی مد میں 15 لاکھ روپے کک بیکس لینے کا الزام بھی ہے۔

مزید پڑھیں: غیرجمہوری عناصرقوم کے سامنے بے نقاب ہوچکے،مریم اورنگزیب

درخواست کے مطابق سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے خصوصی نغمے بنانے کے لیے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) کے وسائل استعمال کیے اور اپنی جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم کے 21 افراد کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) میں بھرتی کرنے کی کوشش بھی کی۔

قومی احتساب بیورو میں جمع کرائی گئی اس درخواست میں الزام لگایا گیا کہ مریم اورنگزیب نے اشہتاری کمپنیوں سے ذاتی مالی مفاد حاصل کیے اور سرکاری رہاش گاہ پر بجٹ سے زیادہ 40 لاکھ روپے خرچ کیے۔

اس کے علاوہ درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی زبانی ہدایت پر اشتہارات بھی شائع کرائے جبکہ ان کی بد انتظامی کی وجہ سے پی ٹی وی کے 350 ملازمین ریٹائرمنٹ سے فائدہ نہ اٹھاسکے۔

درخواست میں مریم اورنگزیب پر یہ بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اپنے دور میں سرکاری ٹرانسپورٹ کا غلط استعمال کیا اور انہیں اپنے ذاتی کاموں کے لیے بھی استعمال کیا۔

دوسری جانب اس طرح کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ مریم اورنگزیب کے خلاف یہ درخواست وزارت اطلاعات کے کسی فرد کی جانب سے ہی جمع کرائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مریم اورنگزیب کو مریم نواز کا انتہائی قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے جبکہ ان کی والدہ طاہرہ اورنگزیب بھی رکن قومی اسمبلی رہ چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی گفتگو نشر نہ کرنے کا فیصلہ میں نے کیا، مریم اورنگزیب

اس کے علاوہ مریم اورنگزیب پارلیمانی سیکریٹری برائے داخلہ کے عہدے پر بھی فائز رہی ہیں۔

یاد رہے کہ مریم اورنگزیب کو ابتدائی طور پر ایسے وقت میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا جب 29 اکتوبر 2016 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے سیکیورٹی سے متعلق اہم خبر کے حوالے سے کوتاہی برتنے پر پرویز رشید سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا قلم دان واپس لے لیا تھا۔

بعد ازاں سابق وفاقی حکومت نے اپنی مدت ختم ہونے سے کچھ روز قبل مریم اورنگزیب کو وزیر مملکت برائے اطلاعات سے وزیر اطلاعات کا عہدہ دے دیا تھا۔