اسلام آباد: دفترِ خارجہ نے روس، چین اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے دورہ پاکستان سے لاعلمی کا اظہار کردیا جبکہ طالبان سے متعلق سعودی عرب کے بیان پر تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی۔

دفترِ خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان طالبان پر سعودی عرب کے اثر و رسوخ کے اندازے نہیں لگاسکتا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ کے دوران روس، چین اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے دورہ پاکستان سے اظہار لاعلمی کرتے ہوئے کہا کہ طالبان سے متعلق سعودی حکومت کے بیان پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ پاکستان پڑوسی ملک میں مفاہمت اور امن کے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور افغان مفاہمتی عمل میں ممکنہ معاونت بھی کرے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان، امریکا کا افغانستان میں قیام امن کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق

افغان مسئلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ اس میں مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان سزایافتہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس میں جواب الجواب 17 جولائی کو عالمی عدالتِ انصاف میں جمع کرائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کیس کے سلسلے میں عالمی عدالت انصاف میں اپنا گزشتہ جواب 13 دسمبر 2017 کو جمع کروایا تھا۔

ترجمان دفترخارجہ نے اپنی بریفنگ کے دوران کہا کہ 8 جولائی کو برہان وانی کی شہادت کو 2 سال مکمل ہوئے اور ان گزشتہ 2 برسوں میں بھارت نے کشمیریوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے اور کشمیریوں نے جرأت کے ساتھ ان مظالم کا مقابلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر:برہان وانی کی برسی،حریت قائدین گرفتار و نظربند

انہوں نے کہا کہ اقوامِ عالم کشمیر میں بھارت کے ریاستی مظالم سے آگاہ ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ بھی جاری کی ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے خاتون حریت رہنما آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھی صوفیہ کو تہاڑ جیل منتقل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیریوں کا مقدمہ ہر فورم پر لڑتے رہیں گے۔

ساتھ میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کو بھارت میں یورینیم کی بلیک مارکیٹ میں فروخت پر شدید تشویش ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے پاکستان کی جانب سے خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کے کارنامے کا ذکر کرتے ہوئے اسے پاکستان کے سائنس اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں سب سے بڑی پیش رفت قرار دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے مقامی سطح پر تیار کردہ 2 سیٹلائٹس خلاء میں بھیج دیں

انہوں نے بتایا کہ یہ سیٹیلائٹس پاکستان کو معاشی و اقتصادی ترقی کے لیے آب ہوا کے مشاہدے، دیہی و شہری منصوبہ بندی سماجی و اقتصادی، زراعت اور جنگلات متعلق مسائل کی تشخیص اور ان کا حل نکالنے، قدرتی آفات سے نمٹنے اور آبی ذخائر کے انتظام کے لیے ٹیکنالوجی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنائیں گی۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنی بریفنگ کے دوران اعلان کیا کہ دفترِ خارجہ کے تمام ملازمین چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی اپیل پر دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے قائم ہونے والے فنڈ میں اپنی تنخواہیں عطیہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دفترخارجہ کے افسران اپنی 3 دن کی تنخواہ جبکہ ملازمین اپنی ایک یوم کی تنخواہ ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں گے۔