سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کلثوم نواز نے دوران علاج ایک ماہ بعد اپنی آنکھیں کھولی ہیں تاہم وہ تاحال وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی حالت بہتر نہیں۔

مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں اپنی والدہ کی صحت یابی کے لیے دعا کی درخواست کی اور بتایا کہ وہ نہیں جانتی کہ ان کی والدہ نے انہیں پہچانا ہے یا نہیں۔

علاوہ ازیں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آج والدہ نے آنکھیں کھولی ہیں اور ان کی صحت میں بہتری آرہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تاہم میری والدہ کو دعاؤں کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ادویات میں تبدیلی کی جارہی تھی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

وطن واپسی پر بیٹے کا ماتھا چومنا چاہتی ہوں، والدہ نواز شریف

بعد ازاں نواز شریف کی والدہ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان کو روشن کرنے والے قوم کا لیڈر واپس آ رہا ہے اور میں وطن واپسی پر نواز شریف کا ماتھا چومنا چاہتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ناحق فیصلہ آیا ہے اور وہ تینوں کو جیل نہیں جانے دیں گی اور اگر تینوں کو گرفتار کیا گیا وہ خود بھی جیل جائیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے کرپشن نہیں کی، ان کی کرپشن عدالت میں ثابت نہیں ہوئی جبکہ نواز شریف کو ملک سے وفاداری کی سزا دی جارہی ہے۔

کلثوم نواز کو گزشتہ سال اگست میں گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد ان کی سرجری ہوئی اور کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کے کئی سیشنز ہوئے۔

واضح رہے کہ کلثوم نواز کو جون 2018 میں اچانک دل کا دورہ پڑنے پر لندن کے ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف،مریم نواز کو لاہور ایئرپورٹ پر ہی گرفتار کرلیا جائے گا،ذرائع

کلثوم نواز کو جب ہسپتال منتقل کیا گیا اس وقت نواز شریف اور مریم نواز لندن کی پرواز میں سفر کر رہے تھے۔

کلثوم نواز کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین نواز علاج کے دوران مسلسل ان کے ساتھ ہیں، لیکن ان کے شوہر اور بیٹی مریم نواز اسلام آباد کی احتساب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد لندن پہنچے تھے۔

واضح رہے کہ لندن میں موجود نواز شریف اور مریم نواز 13 جولائی بروز جمعہ کو پاکستان واپس آرہے ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے دونوں کو ایون فیلڈ کرپشن ریفرنس میں قید کی سزا سنائی تھی، عدالت کی جانب سے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈز اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈز کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد نیب نے دونوں کے وارنٹ گرفتاری بھی حاصل کر لیے تھے۔

نگراں وزیر قانون و اطلاعات علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’اگر نواز شریف اور مریم نواز پاکستان آنے سے قبل اپنی ضمانت نہیں کراتے تو انہیں پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پراترتے ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔‘

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ وہ ان کی بیٹی جمعہ کو لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے اور پاکستان پہنچنے کے بعد ہی اپنے مستقبل سے متعلق لائحہ عمل طے کریں گے۔‘

یہ بھی پڑھیں: بیگم کلثوم کی طبیعت بہتر پر خطرے سے باہر نہیں، نواز شریف

گزشتہ روز نیب حکام نے نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو بھی راولپنڈی سے گرفتار کرکے انہیں جیل بھیج دیا تھا۔

احتساب عدالت نے انہیں بھی ایون فیلڈ ریفرنس میں اعانت کا جرم ثابت ہونے پر ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔