اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر خزانہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار نے چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) عطاء الحق قاسمی سے اپنے تعلق کی تردید کردی۔

انہوں نے عدالت عظمیٰ کو بذریعہ ای میل مطلع کیا کہ ان کا چیئرمین پی ٹی وی کی تقرری سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی ٹی وی عطاء الحق قاسمی مستعفی

واضح رہے کہ 9 جولائی کو چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار چیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو 12 جولائی تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا تھا۔

اسحٰق ڈار نے اپنی ای میل میں واضح کیا کہ سابق پی ٹی وی چیئرمین عطاء الحق قاسمی کیلئے 18 لاکھ روپے تنخواہ مقرر کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

ساتھ ہی انہوں مطالبہ کیا کہ عطاء الحق قاسمی کیلئے لاکھوں روپے تنخواہ مقرر کرنے والوں سے جواب طلب کیا جائے۔

سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ارسال کی گئی ای میل میں موقف اختیار کیا گیا کہ بیماری کے باعث سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے قاصر ہوں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: عطاء الحق قاسمی کی چیئرمین پی ٹی وی تقرری پر فیصلہ محفوظ

خیال رہے کہ سابق سیکریٹری خزانہ وقار مسعود نے 12 جولائی کو سپریم کورٹ میں موقف اختیار کیا تھا کہ عطاء الحق قاسمی کو دی گئی مراعات کے سلسلے میں سمری وزارت خزانہ سے ہوتی ہوئی وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھیجی گئی تھی، جس میں ایم ڈی پی ٹی وی کو ادا کیے جانے والے پیکج کی مجموعی رقم 54 لاکھ روپے تھی۔

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عطاء الحق قاسمی کی بھاری تنخواہ کے لیے کسی نے ہدایت کی تھی۔

اس حوالے سے عدالت میں موجود سابق سیکریٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری کی سمری میری جانب سے نہیں بھیجی گئی۔

جس پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کا کہنا تھا کہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری کا معاملہ خوفناک ہے، اگر وزیر خزانہ کے نوٹ کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کس نے کس کو کیا لکھا۔

مزید پڑھیں: ہراساں کرنے کا الزام: ’پی ٹی وی‘ کے ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز برطرف

چیف جسٹس نے اس حوالے سے ریمارکس دیے کہ یہ مقدمہ مزید تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے، کئی مرتبہ کہا ہے کہ اسحٰق ڈار مہربانی کرتے اور محبت سے آ جاتے تو بہت سی چیزیں واضح ہو جاتیں لیکن وہ آتے ہی نہیں ان کی کمر کا درد ہی ختم نہیں ہوتا۔

اس دوران چیف جسٹس نے مزید ریمارکس میں کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کہتے تھے وزیراعظم سیکرٹریٹ کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہم نے عطاء الحق قاسمی کو اسی لیے طلب کیا تھا۔