مریم جیسے کئی گوہر نایاب پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2018

ای میل

مریم میرزا خانی گزشتہ برس 15 جولائی کو چل بسی تھیں—فوٹو: انورس
مریم میرزا خانی گزشتہ برس 15 جولائی کو چل بسی تھیں—فوٹو: انورس

انسانی دماغی صلاحیتیں اور طبعی رجحان ہمیشہ قدرتی ہوتے ہیں مگر ماحول اور تربیت سے یقیناً شخصیت میں بہت سی مثبت اور منفی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جب ایک بچہ اسکول جانا شروع کرتا ہے تو انہی مضامین میں دلچسپی اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے جن کی جانب اس کا طبعی رجحان ہوتا ہے، مگر عموماً یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ ریاضی ایسا مضمون ہے جس سے بچے دور بھاگتے ہیں۔

پاکستان میں تعلیمی نظام کی خرابی کی وجہ سے صورتحال کچھ اور بھی زیادہ بدتر ہے اور 30 بچوں کی کلاس میں بمشکل 8 یا 9 ہی اس میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ طالبات کے لیے یہ تعداد مزید کم ہوکر محض 2 یا 3 رہ جاتی ہے، کیوں کہ بچے اس مشکل مضمون میں دلچسپی رکھتے بھی ہوں تو انہیں پڑھایا اس قدر غیر معیاری طریقے سے جاتا ہے کہ ان کا رجحان بڑھنے کے بجائے آہستہ آہستہ کم ہو کر بیزاری میں بدل جاتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان ہی نہیں بھارت سمیت جنوبی ایشیا اور دنیا بھر کے ترقی پزیر ممالک میں یہ تصور عام ہے کہ سائنس، خصوصاً ریاضی اور طبیعات جیسے مضامین خواتین کے لیے موزوں نہیں ہیں، مگر ان ممالک کی چند خواتین نے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں سے ثابت کیا کہ اگر مواقع میسر ہوں تو خواتین بھی مردوں سے کم نہیں ہیں۔

ان ہی خواتین میں سے ایک بے انتہا صلاحیتوں کی حامل ایران میں جنم لینے والی مریم مرزا خانی بھی تھیں، جنہوں نے محض 17 یا 18 برس کی عمر میں عالمی میتھا میٹکس اولمپیڈ مسلسل 2 بار جیت کر بتدریج کامیابیوں کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے 37 برس کی عمر میں فیلڈ میڈل حاصل کیا جسے ریاضی میں نوبل انعام کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔

مگر قدرت نے انہیں زیادہ مہلت نہ دی اور 3 برس تک بریسٹ کینسر سے بہت بہادری کے ساتھ لڑنے کے بعد 15 جولائی 2017 کو یہ باہمت عورت جس نے زندگی کے ہر میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے تھے، صرف 40 برس کی عمر میں موت سے ہار گئی۔

آج مریم میرزا خانی کی وفات کو ایک برس مکمل ہوگیا، اس دوران ان کی ذاتی زندگی، کیریئر اور اعزازات کے متعلق اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ پاکستان کا وہ مخصوص طبقہ جو پہلے ان کے نام سے بھی واقف نہ تھا اب ان سے آشنا ہوچکا ہے۔

مگر غور طلب امر یہ ہے کہ جن ایشیائی خواتین کے لیے رول ماڈل بننے کا خواب آنکھوں میں سجا کر 1999ء میں مریم نے ایران کو خیر باد کہہ کر امریکا کا رخ کیا تھا، ان میں سے کتنی ان کے کارناموں سے پوری طرح آگاہ ہیں اور کتنی مریم کے نقش قدم پر چل کر ریاضی جیسے مشکل مضمون میں کچھ غیر معمولی کر دکھانے کا عزم رکھتی ہیں؟

ایرانی ماہر ریاضیدان نے اعلیٰ تعلیم امریکا میں ہی حاصل کی—فوٹو: اکنامسٹ
ایرانی ماہر ریاضیدان نے اعلیٰ تعلیم امریکا میں ہی حاصل کی—فوٹو: اکنامسٹ

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور پاکستان جغرافیائی طور پر ایک ہی خطے میں واقع ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کی ثقافت اور رسم و رواج کسی حد تک مشابہہ ہیں، مگر ایرانی معاشرے میں انقلاب کے بعد بہت تیزی کے ساتھ تبدیلیاں آئیں، ایرانی حکومت نے اپنے تعلیمی نظام کے نقائص دور کرنے پر خصوصی توجہ دی۔

نصاب کو جدید خطوط پر مرتب کرنے کے ساتھ ہی یہ امر ممکن بنایا گیا کہ بچوں پر اسکولوں میں زیادہ سے زیادہ کتب کا بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں اتنا ہی پڑھایا جائے جتنا وہ باآسانی سمجھ سکیں، اس مقصد کے لیے کچھ پبلک سروسز بھی شروع کی گئیں تاکہ طلباء کے مخصوص مضامین کی جانب رجحان کو سمجھا جاسکے، اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی ٹریننگ اور بھرتی پر کڑی نظر رکھی گئی تاکہ غیر معیاری طریقہ تعلیم کا سدِباب کیا جاسکے۔

ایرانی حکومت کی انہی کوششوں کی بدولت اب ایران شرح خواندگی میں پاکستان سے آگے ہے، لگ بھگ 24 سال قبل مریم میرزا خانی نے جب لگاتار 2 دفعہ میتھامیٹکس اولمپیڈ جیتی تھی تو اس وقت ایران کی نوجوان لڑکیاں بھی ریاضی میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی تھیں، مگر اس کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں جس طرح مریم نے بتدریج کامیابیوں کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دنیا بھر میں اپنے وطن کا نام روشن کیا اس کے بعد سے ایرانی خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

اگرچہ تعلیم خصوصا سائنسی تعلیم ایک ایسا آپشن رہا ہے جسے ہر دور میں، ہر پاکستانی حکومت نے نظر انداز کیا ہے اور ہم اتنے برس گزر جانے کے باوجود بھی آج تک ایک واضح سائنسی تعلیمی پالیسی نہیں بنا سکے،2017ء میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پرائمری سے مڈل لیول تک بچے سائنسی مضامین، خصوصاً ریاضی میں اوسط سے بھی کم نمبر لیتے ہیں اور اساتذہ بچوں کو بنیادی حساب سکھانے کے بجائے صرف سلیبس مکمل کروانے پر زور دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی ماہر ریاضیات مریم مرزاخانی پاکستانی لڑکیوں کے لیے مثال کیوں؟

گزشتہ 2 دہائیوں میں اقوامِ متحدہ اور نجی شعبے کی کوششوں سے پاکستان میں نہ صرف شرحِ خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ اب بلوچستان سمیت ہر صوبے سے طالبات بھی سائنسی مضامین میں کثیر تعداد میں تعلیمی اداروں میں داخلہ لے رہی ہیں، اس کے باوجود پاکستان کا مقامی ٹیلنٹ، بین الاقوامی سطح پر کارہائے نمایاں سرانجام دینے سے قاصر ہے۔

آج نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سمیت پاکستان کی دیگر معیاری جامعات کا جائزہ لیا جائے تو بائیو میڈیکل اور بائیو انفارمیٹکس جیسے پیچیدہ مضامین میں بھی طالبات کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پاکستان کی وہ واحد یونیورسٹی ہے جسے عالمی یونیورسٹی رینکنگ میں جگہ دی گئی ہے۔

اس کے برعکس ہمارے ہمسایہ ممالک بھارت، چین، یہاں تک کہ افغانستان میں بھی خواتین کی سوچ اور مستقبل کے حوالے سے ترجیحات میں گزشتہ کچھ عرصے میں واضح تبدیلی آئی ہے اور اب ان ممالک کی باصلاحیت خواتین دیگر شعبوں کی طرح ایٹمی پروگرام میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں، جبکہ پاکستان جس کے ایٹمی پروگرام کو دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں رول ماڈل سمجھا جاتا ہے وہاں کی خواتین کا نہ تو ماضی میں ایٹمی پروگرام میں کوئی قابلِ ذکر کردار تھا اور نہ ہی نئی نسل کی لڑکیاں اس جانب کچھ زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

آج کی نسل کو اس جانب راغب کرنے کے لیے اشد ضروری ہے کہ مریم میرزا خانی جیسی باصلاحیت خواتین کی جدوجہد کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جائے، مریم کو دنیا بھر کی سائنس کمیونٹی خاص کر میتھامیٹکس کے حلقوں کی جانب سے خصوصی توجہ اس وقت حاصل ہوئی جب انہوں نے اپنے تھیسز کے دوران اسنوکر ٹیبل سے متعلق اس پیچیدہ مسئلے کو حل کیا جو ان کے سپر وائزر کرسٹ میک ملن بھی حل نہیں کر پا رہے تھے۔

بنیادی طور پر مریم کی تحقیقات ریاضی اور جیومیٹری کی ان شاخوں کا احاطہ کرتی ہیں جن کے ذریعے، سیاروں کی حرکت، دوسری کائناتوں کی تلاش اور خلاء کی تسخیر سے متعلق پیچیدہ مسائل کو بہتر طور پر سمجھ کر حل کیا جاسکتا ہے۔

آج اگر پاکستان کی بہترین یونیورسٹیز سے پی ایچ ڈی میتھا میٹکس خواتین سے ان مسائل کے بارے میں محض رائے بھی مانگی جائے تو ان کا ادھورا جواب ان کی کم علمی کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہوگا۔

اس کی اصل وجہ ہی یہی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام بنیادی نقائص کا شکار ہے، ہماری جامعات طلبہ و طالبات میں تحقیق کا رجحان پیدا کرنے سے قاصر ہیں، ساتھ ہی اس طرح کے پیچیدہ ریاضیاتی مسائل میں سر کھپانے کے لیے طالبات کو جس اعتماد کی ضرورت ہے وہ آج کا استاد انہیں دینے سے قاصر ہے، کیوں کہ خواتین جب کسی نئے شعبے یا کسی نئے موضوع پر تحقیق کا انتخاب کرتی ہیں تو صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں انہیں صنفی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خود مریم میرزا خانی بھی اکثر اوقات انٹرویوز میں اس صنفی امتیاز کا ذکر کیا کرتی تھیں جس کا سامنا انہیں ہارورڈ یونیورسٹی، بعد ازاں اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں ملازمت اور جیومیٹری کے پیچیدہ مسائل پر تحقیق کے دوران کرنا پڑا، جس کا انہوں نے مردانہ وار مقابلے کرتے ہوئے اس تصور کو غلط ثابت کیا کہ خواتین کے لیے صرف چند شعبے ہی مخصوص ہیں۔

پاکستان میں بھی مریم کی طرح نہ جانے کتنے گوہر نایاب چھپے ہوئے ہوں گے جنہیں سماجی و معاشرتی حدود اور بندشیں آگے بڑھنے نہیں دیتیں، ان میں سے چند ایک اگر کسی نو آموز فیلڈ میں کچھ کر دکھانے کا عزم رکھتی بھی ہیں تو والدین سے لے کر اساتذہ تک سے انہیں وہ اخلاقی حمایت نہیں ملتی جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہو اور وہ راستے کی رکاوٹوں سے ڈر کر پیچھے ہٹنے کے بجائے، ہمت اور مستقل مزاجی سے آگے بڑھ کر ملک و قوم کا نام روشن کرسکیں۔

پاکستانی خواتین صلاحیتوں میں ایران، بھارت یا کسی بھی اور ملک کی خواتین سے کم نہیں ہیں، انہیں صرف موافق حالات اور ایک بہتر تعلیمی نظام کے علاوہ اپنوں کی جانب سے اخلاقی و عملی مدد کی ضرورت ہے جو ان کا حوصلہ بلند کرسکے۔