کراچی کے عسکری پارک میں گزشتہ روز گرنے والے جھولے سے ایک بچی کی ہلاکت اور 24 افراد کے زخمی ہونے پر پی آئی بی تھانے نے پارک انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

گلشن کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) غلام مرتضیٰ بھٹو کا کہنا تھا کہ پارک کی انتظامی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

آفیسر کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کو ریاست کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے کیوں کہ مرنے والی بچی کے والد عبدالصمد نے پارک انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرانے سے انکار کردیا تھا۔

ایف آئی آر کو پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 319 اور 337 (ایچ-1) کے تحت درج کیا گیا۔

مزید پڑھیں: عسکری پارک میں حادثہ بولٹ ٹوٹنے کی وجہ سے پیش آیا، رپورٹ

دریں اثنا کراچی مشرق کے ڈی آئی جی عامر فاروقی نے ڈان کو بتایا کہ سانحے پر ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں جس میں سانحے کی وجہ عسکری پارک کی انتظامیہ کی نظر اندازی سامنے آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارک کی انتظامیہ کے پاس ریسکیو کے لیے بھی انتظامات موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے بچی جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

ابتدائی تحقیقات

سکری پارک میں جھولا گرنے کے معاملے میں تفتیش کا آغاز کردیا گیا، جبکہ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واقعہ بولٹ ٹوٹنے اور گراریاں خراب ہونے کے باعث پیش آیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) شرقی عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ واقع میں جاں بحق ہونے والی بچی کے والد کے بیان کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) گلشن کا کہنا تھا کہ حادثے کے حوالے سے وہاں پر موجود عینی شاہد کا بیان لینا شروع کردیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: عسکری پارک میں جھولا گرنے سے ایک بچی جاں بحق

انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا، جس میں قتل خطا کی دفعات شامل کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ مذکورہ واقعے میں ایک لڑکی جاں بحق ہوئی جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے جن میں سے زیادہ تر افراد کو معمولی زخم آئے اور انہیں طبی امداد دینے اور لیباٹری ٹیسٹ کے بعد واپس گھر بھیج دیا گیا۔

علاوہ ازیں کفایت نامی شخص کی حالت نازک ہے جو کراچی کے جناح ہسپتال میں زیرِ علاج ہے جبکہ ایک زخمی سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہے۔