میں چراغ خیمۂ شب نہیں کہ سحر ہوئی تو بجھا دیا

اپ ڈیٹ 22 جولائ 2018

ای میل

2018ء میں جہاں بہت سے اچھے ادیب و شاعر ہم سے جدا ہوئے وہیں دنیائے ظرافت اور شگفتہ تحریروں کے مالک مشتاق احمد یوسفی بھی ہم میں نہ رہے۔ ابھی ہم مختار مسعود کے صدمے سے نہ سنبھلے تھے کہ دنیائے ادب کا ایک اور بڑا قدآور شخص ہمیں روتا چھوڑ گیا۔

وہ شخض جو مجسم ہنسی، سراپا محبت تھا چمکتا ہوا گلابی چہرہ دمکتے ہوئے گال، یقین نہیں آتا کہ وہ ہم میں نہیں رہا، مگر اس کی نایاب اور قیمتی تحریریں نہ صرف اسے زندہ رکھیں گی بلکہ وہ ہم دم ہمارے درمیان اپنی تحریروں اور بے ساختہ جملوں کے ساتھ ہمیشہ موجود رہے گا۔

پچھلے چند دنوں میں بڑے بڑے ادیبوں، قلم کاروں، کالم نگاروں نے اپنی خوبصورت اور دل موہ لینے والی تحریروں کے ذریعے یوسفی صاحب کے بارے میں نہ صرف اظہارِ خیال کیا بلکہ اپنی یادیں اور یوسفی صاحب سے وابستہ لمحات کو قلم بند بھی کیا۔ میں نہ تو یہ دعویٰ کروں گا کہ میرے محترم یوسفی صاحب سے دیرینہ تعلقات تھے نہ ہی کوئی تفصیلی ملاقات تھی ہاں البتہ ادب کے قاری ہونے کے ناطے ان کو قریب سے دیکھا سنا مصافحہ تو ضرور کیا، مگر کوئی سیلفی یا تصویر لینا ہمیشہ کی طرح مناسب نہ سمجھا۔

پڑھیے: مشتاق احمد یوسفی: اردو ادب کا عہدِ جاریہ

آج میں اپنی اس تحریر میں ان کے ادبی مقام پر ان کی تحریروں کے بارے میں اظہار کرنے سے زیادہ یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے بارے میں ان کی اپنی رائے، ان کی تحریر سے آپ کو آگاہ کروں کیونکہ ہمارا المیہ یہ ہوتا جارہا ہے کہ ہم نے کتاب کو اہمیت دینا چھوڑ دی ہے اور صرف فیس بک بقول شخصے وہ بھی تو بک Book ہے، پر اپنے آپ کو پڑھا لکھا ظاہر کرنے کی حتی الامکان اور سعی لاحاصل جاری رکھی ہوئی ہے۔ جتنا بڑا ادیب و شاعر ہوگا اتنا ہی وسیع اس کا مطالعہ ہوگا اس کے کلام اور اس کی تحریر میں جو اثر ہوتا ہے اس میں بڑا ہاتھ اس کی معلومات اور اس کے مطالعے کا ہوتا ہے جو ہم نے بالکل چھوڑ دیا ہے۔ محترم جناب محمود شام نے مورخہ 24 جون 2018ء روزنامہ جنگ میں چھپنے والے کالم ’چور کو تھانیدار مقرر کردو، یوسفی کا مشورہ‘ میں کہا کہ

’کہنے کو تو ہم عہدِ یوسفی میں رہنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس عہد کے آداب و اقدار سے کہیں زیادہ ہمیں یوسفی صاحب کے ساتھ اپنی سیلفیاں فیس بک پر داغنے کا شوق ہے۔ سوئے ادب کا خیال نہ بزرگی کی ناقدری کا احساس کہ وہ بستر علالت پر دراز ہیں۔ ہم مسکراتے ہوئے اپنی تصویر کھینچ رہے ہیں یا کھینچوارہے ہیں۔ ہم اپنے ادبی خزانے، علمی سرمایہ کھو رہے ہیں مگر احساس زیاں کو قریب نہیں آنے دیتے۔‘

’چراغ تلے‘، ’خاکم بدہن‘، ’زر گزشت‘، ’آب گم‘ اور ’شام شعریاراں‘ جیسی عظیم اور لازوال تحریروں کے مالک اب ہمارے درمیان نہیں بس یہ کتابیں تحریریں ہی ہیں جو یوسفی صاحب کا نام زندہ رکھیں گی۔ موت برحق ہے یوسفی صاحب نے اپنی کتاب ’زرگزشت‘ میں کہا کہ،

’عام آدمی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس کی زندگی میں صرف تین موقع ایسے آتے ہیں جب وہ تنہا سب کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے، عقیقہ، نکاح اور تدفین‘۔

علی گڑھ یونیورسٹی جیسے اعلیٰ اور نامی گرامی تعلیمی ادارے سے فلسفے میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ لاء کی ڈگری یعنی ایل ایل بی ڈگری حاصل کی مگر وکالت کا پیشہ اختیار نہ کرنے میں عافیت جانی، بینکاری کے شعبے کو اپنا ذریعہ معاش بنایا اور اس کے اعلیٰ ترین مقام تک رسائی حاصل کی۔ 4 بڑے بینکوں کے سربراہ رہے اور پھر بینکنگ کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔ بینک میں جاب کرنے کے حوالے سے یوسفی صاحب اپنی کتاب زر گزشت میں لکھتے ہیں کہ:

’بچپن میں ہم کبھی کیریئر کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے تھے تو انجن ڈرائیوری کے سامنے بادشاہی بھی ہیچ معلوم ہوتی تھی۔ ہم نے خود کو ہر بہروپ، ہر سوانگ میں دیکھا تھا سوائے بینکر کے۔ یہ وہ چوتھی کھونٹ تھی جس طرف جانے کی داستانوں میں سخت مناہی ہوتی ہے۔ لیکن جدھر جانے والا ضرور جاتا ہے اور پچھتاتا ہے۔ ہم نے تادم تقریر و تقرر کسی بینک کو اندر سے نہیں دیکھا تھا البتہ اتنا معلوم تھا کہ اگر کوئی شخص یہ ثابت کردے کہ اس کے پاس اتنی جائیداد اور سرمایہ ہے کہ قرض کی قطعاً ضرورت نہیں تو بینک اسے قرض دینے پر رضامند ہوجاتا ہے۔ ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ سود جسے حرام ٹھہرایا گیا ہے اور ربا جس کی حرمت میں ہمیں آج بھی شمہ برابر شبہ نہیں ہمارا ذریعہ معاش ہی نہیں، بلکہ ہر اعتبار سے غالب و کار آفریں، کار کشا اور ساز ثابت ہوگا‘۔

یوسفی صاحب کا دھان پان سا جسم اور درمیانہ قد دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف جینے کے لیے کھاتے ہیں ان کا شمار قطعاً ان لوگوں میں نہیں ہوتا تھا جو کھانے کے لیے جیتے ہیں۔ گوری رنگت، کشادہ پیشانی اور روشن چہرہ، بقول مرحوم ضمیر جعفری کے:

پتلی گردن، پتلے ابرو، پتلے لب، پتلی کمر

جتنا بیمار آدمی، اتنا طرح دار آدمی

یہ شعر ضمیر جعفری نے یوسفی صاحب کے لیے نہیں کہا تھا مگر محسوس ایسا ہوتا ہے کہ انہوں نے یوسفی کو دیکھ کر ہی کہا ہوگا۔

اپنی کتاب ’چراغ تلے‘ میں یوسفی صاحب اپنے بارے میں کچھ اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں:

’اوورکوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں، یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کا بنیان پہن سکتا ہوں۔‘

اور زرگزشت میں آپ خود کہتے ہیں کہ:

’والدہ کی بڑی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور عرب جاکر بدوؤں کا مفت علاج کروں اس لیے کہ ناول کے ہیرو نے یہی کہا تھا۔ مولا کا بڑا کرم ہے کہ ڈاکٹر نہ بن سکا ورنہ اتنی خراب صحت رکھنے والے ڈاکٹر کے پاس کون پھٹکتا۔۔۔‘

مشتاق احمد یوسفی بنیادی طور پر طنز نگار ہیں یا مزاح نگار؟ طنز اور مزاح کے الفاظ لازم و ملزوم سہی لیکن طنز نگاری اور مزاح نگاری تنقیدی فیصلے کے لیے جداگانہ معیار چاہتی ہیں۔ کوئی ادیب طنز نگار ہے یا مزاح نگار۔ اس پر بحث اتنی آسان نہیں جتنی ہم محسوس کرتے ہیں۔ دراصل طنز نگار ہو یا مزاح نگار دونوں کا موضوع ایک ہی قسم کے مواد سے تعلق رکھتا ہے، یعنی انسانی کردار اس کی کمزوریاں اس کی حرکات و سکنات یا پھر معاشرتی اور سماجی برائیاں، جس کو دیکھ کر ہنسنے والا یا ہنسانے والا مزاح نگار اور برس پڑنے والا طنز نگار۔ مزاح نگار دراصل لوگوں کے لیے تفریح کے اسباب پیدا کرتا ہے اور طنزنگار کی تحریر میں تفریح کے ساتھ ساتھ، معاشرتی اور سماجی برائیوں کی نشاندہی اور اصلاح بھی ہوتی ہے بقول محترم نظیر صدیقی کے کہ:

’مزاح نگار ہنستا ہے، طنز نگار ڈستا ہے‘۔

میرے خیال میں یوسفی صاحب کی تحریروں میں طنز و مزاح دونوں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ ظرافت اور بصیرت مزاح اور مشاہدے کا جو خوبصورت اور خیال انگیز امتزاج مشتاق احمد یوسفی کے ہاں موجود ہے وہ کم ہی کہیں ملتا ہے۔ یوسفی صاحب کے مزاح میں جابجا طنز کی بجلیاں چمکتی نظر آتی ہیں، ان کے یہاں حوالوں اور اشاروں کا دائرہ وسیع ہے۔

شاہد عشقی اپنے مضمون ’یوسفی ایک طنزنگار‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’مزاح نگاری ایک بہت کارآمد حربہ زبان و بیاں کی بازی گری ہے۔ جسے بزلہ سنجی (Wit) کہا جاتا ہے۔ تکرار (Repetatin) اور رعایت لفظ (Pun) ہمارے ادب کے پرانے حربے ہیں۔ لطائف سے پیدا ہونے والا مزاح اور جملے بازی وغیرہ اسی ایک حربے کے مختلف استعمال ہیں۔ ہمارے معاشرتی مزاح نگار بہت حد تک فرانسیسی مزاح نگاروں کے انداز پر الفاظ کے الٹ پھیر سے یا لفظی ابہام گوئی سے مزاح پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف انگریزی مزاح نگار واقعات کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ان کی ترتیب سے مزاح پیدا ہوجاتا ہے۔ یوسفی اس معاملے میں کسی ایک کے پیرو نہیں، وہ مزاح کا ہر حربہ آزماتے ہیں الفاظ کی الٹ پھیر اور ترتیب سے وہ بڑا کامیاب مزاح پیدا کرتے ہیں‘۔

پڑھیے: مشتاق یوسفی اور شامِ شعرِ یاراں کا معمہ

دراصل بات اتنی ہے کہ مشتاق احمد یوسفی کو الفاظ برتنے کا سلیقہ آتا ہے۔ آپ الفاظ سے کم لیکن اپنے اندازِ بیان سے زیادہ تر مزاح پیدا کرتے ہیں۔ یوسفی صاحب مزاح کے بارے میں کس قسم کے خیالات رکھتے ہیں ذرا ان کے الفاظ میں بھی جانیے، اپنی دوسری کتاب ’خاکم بدہن‘ کے صفحہ نمبر 9 میں لکھتے ہیں کہ،

’حس مزاح ہی دراصل انسان کی چھٹی حس ہے یہ ہو تو انسان ہر مقام سے آسانی سے گزر جاتا ہے‘۔

اپنی پہلی کتاب ’چراغ تلے‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

’میرا یہ دعویٰ نہیں کہ ہنسنے سے سفید بال کالے ہوجاتے ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ پھر وہ اتنے بُرے معلوم نہیں ہوتے۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو قوم اپنے آپ پر جی کھول کر ہنس سکتی ہے، وہ کبھی غلام نہیں ہوسکتی‘۔

اپنی تیسری کتاب ’زرگزشت‘ تحریر کرتے ہوئے کس خوبصورتی کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہیں کہ،

’جہاں سچ بول کر سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑتا ہے وہاں چاتر مزاح نگار الف لیلیٰ کی شہرزاد کی طرح ایک ہزار ایک کہانیاں سنا کر اپنی جان اور آبرو صاف بچالے جاتا ہے۔ میں نے گمبھیر بین الاقوامی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی سوالوں سے جان چھڑانے کے لیے 20 سال پہلے ایک جملہ گھڑا تھا، ’دنیا میں جہاں کہیں، جو کچھ ہورہا ہے، وہ ہماری اجازت کے بغیر ہورہا ہے‘۔ مزاح نگار کو جو کچھ کہنا ہوتا ہے وہ ہنسی ہنسی میں اس طرح کہہ جاتا ہے کہ ہنسنے والے کو بھی بہت بعد میں خبر ہوتی ہے۔ میں نے کبھی کسی پختہ کار مولوی یا مزاح نگار کو محض تقریر و تحریر کی پاداش میں جیل جاتے نہیں دیکھا۔ مزاح کی میٹھی مار بھی شوخ آنکھ، پرکار عورت اور دلیر کے وار کی طرح کبھی خالی نہیں جاتی‘۔

اپنی چوتھی کتاب ’آب گم‘ میں یوسفی صاحب نے ایک جگہ لکھا کہ،

’میرا اپنا عقیدہ ہے کہ وہ مزاح کہ جو آپ کو سوچنے پر مجبور نہ کرے وہ ناپختہ ہے‘۔

آب گم میں مزید کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں،

’مزاح کو میں دفاعی میکے نزم سمجھتا ہوں۔ یہ تلوار نہیں، اس کا زرہ بکتر ہے جو شدید زخمی ہونے کے بعد اسے پہن لیتا ہے۔ زین بدھ ازم میں ہنسی کو گیان کا زینہ سمجھا جاتا ہے لیکن سچ پوچھیے تو اونچ نیچ کا سچا گیان اس سے پیدا ہوتا ہے جب کھمبے پر چڑھنے کے بعد کوئی نیچے سے سیڑھی ہٹالے مگر ایک کہاوت یہ بھی سنی کہ بندر پیڑ کی پھننگ پر سے زمین پر گر پڑے تب بھی بندر ہی رہتا ہے‘۔

اپنی کتاب زرگزشت میں کچھ اس قسم کے خیالات قلم بند کرتے ہیں کہ،

’ہمارے دور کے سب سے بڑے مزاح نگار ابن انشاء کے بارے میں کہیں عرض کرچکا ہوں کہ بچھو کا کاٹا روتا اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے۔ انشاء جی کا کاٹا سوتے میں بھی مسکراتا ہے، جس شگفتہ نگار کی تحریر اس معیار پر پوری نہ اترے اسے یونیورسٹی کے نصاب میں داخل کردینا چاہیے‘۔

ماہنامہ ’ادب‘ میں محترم آصف فرخی کو ایک انٹرویو میں آپ نے کہا کہ،

’خوش رہنا ہر انسان کا حق ہی نہیں فرض بھی ہے۔۔۔ اور جو شے بھی اس فریضے کی ادائیگی میں ممدومعاون ثابت ہو، وہ نہایت مفید ہے۔ تو اس لحاظ سے مزاح زندگی کو زیادہ گوارا، زیادہ خوشگوار بنا دیتا ہے اور ممکن ہے کہ راہ میں پھول نہ کھلاتا ہو لیکن کانٹے بہت سے ہٹا دیتا ہے راستے سے۔ اب مذہب اس کو رضائے الٰہی میں راضی رہنا کہتا ہے۔

مشتاق احمد یوسفی کو 4 سے 5زبانوں پر عبور حاصل تھا اور ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ ہر زبان کے نہ صرف ادب کا مطالعہ کرتے تھے بلکہ اس ملک کے مزاح نگاروں اور ان کی تحریروں کا بھی وسیع مطالعہ تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے ایم اے نفسیات میں کیا تھا اس وجہ سے انسانی نفسیات سے اچھی طرح واقف تھے اور اس کا فائدہ اپنی تحریرں میں اٹھاتے تھے۔ یوسفی صاحب فقرہ بازی کے گر جانتے تھے۔ آپ طنز کی کاٹ کو تیز تر کرنے کے لیے فقرہ بازی سے کام لیتے تھے، آپ کے فقرے اتنے تیز اور نوکیلے ہوتے ہیں کہ شاید کوئی بے حس ہی ان کی چبھن محسوس نہ کرے۔ آپ کے فقرے بذلہ سنجی، فلسفیانہ انداز استدلال اور اندازِ بیان کے سحر سے مل کر عجیب بہار دکھاتے ہیں۔ یوسفی صاحب کے اندازِ بیان کی لطافت کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:

اپنی پہلی کتاب چراغ تلے کے ایک مضمون ’صنف لاغر‘ میں کبھی اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ:

’موٹاپا عام ہو یا نہ ہو مگر دبلے ہونے کی خواہش جتنی عام ہے اتنی ہی شدید بھی۔ آئینے کی جگہ اب وزن کرنے کی مشین نے لے لی ہے بعض نئی مشینیں تو ٹکٹ پر وزن کے ساتھ قسمت کا حال بھی بتاتی ہیں، ہم نے دیکھا کہ کچھ عورتوں کی قسمت کے خانے میں صرف ان کا وزن لکھا ہوتا ہے‘۔

اسی مضمون میں مزید اظہارِ خیال کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ:

’اگلے وقتوں کے لوگوں کے قویٰ بالعموم ان کے ضمیر سے زیادہ قوی ہوتے تھے اس زمانے میں ایک عام عقیدہ تھا کہ دانا مرد عورتوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے۔ صنف نازک کے باب میں ان کا نظریہ کم و بیش وہی تھا جو مرزا غالب کا آم کے متعلق یعنی یہ کہ بہت ہوں۔۔۔‘

کرکٹ میچ کے بارے میں کس خوبصورتی کے ساتھ مختصر الفاظ میں سب کچھ کہہ دیا کہ،

’ادھر اسٹیڈیم کے باہر درختوں کی پھنگوں سے لٹکے ہوئے شائقین ہاتھ چھوڑ چھوڑ کر تالیاں بجاتے اور کپڑے جھاڑ جھاڑ کر پھر درختوں پر چڑھ جاتے تھے‘۔

چراغ تلے میں ایک جگہ پر یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ،

’ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ہاں ایک اوسط درجے کے آدمی کی دو تہائی زندگی چارپائی پر گزرتی ہے اور بقیہ اس کی آرزو میں‘۔

اپنی دوسری کتاب خاکم بدہن کے ایک مضمون ’صیغے اینڈ سنز‘ میں کیا خوبصورتی کے ساتھ کہا کہ،

’یہ قول ان ہی کا ہے کہ فحش کتاب میں دیمک نہیں لگ سکتی کیونکہ دیمک ایسا کاغذ کھا کر افزائش نسل کے قابل نہیں رہتی‘۔

’آب گم‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں،

’لیڈر خود غرض، علماء مصلحت بیں، عوام خوف زدہ اور راضی برضائے حکم، دانشور خوشامدی اور ادارے کھوکھلے ہوجائیں تو جمہوریت آہستہ آہستہ آمریت کو راہ دیتی چلی جاتی ہے پھر کوئی طالع آزما آمر ملک کو غضب ناک نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے۔ ڈکٹیٹر خود نہیں آتا، بلایا جاتا ہے اور جب آجاتا ہے تو قیامت اس کے ہم رکاب آتی ہے۔ پھر وہ روایتی اونٹ کی طرح بدوؤں کو خیمے سے نکال کر باہر کرتا ہے باہر نکالے جانے کے بعد کھسیانے بدو ایک دوسرے کا منہ نوچنے لگتے ہیں۔ انصاف کی خود ساختہ ترازو کے اونچے نیچے پلڑوں کو اپنی تلوار کا پاسنگ کبھی اس پلڑے اور کبھی اس پلڑے میں ڈال کر برابر کردیتا ہے۔‘

مشتاق احمد یوسفی نے ہمیشہ اپنی تحریروں میں سچا، کھرا اور بے ساختہ مزاح لکھا۔ آپ کی تحریروں میں بے ساختگی اور بے تکلفی ملے گی جو بہت کم مزاح نگاروں میں پائی جاتی ہے یہ چیز ہمیں رشید احمد صدیقی، پطرس بخاری، ابنِ انشاء میں ہی نظر آتی ہے۔ موجودہ عہد میں یوسفی صاحب نے اردو مزاح کو ایسا سجایا، سنوارا، بنایا کہ اس میں ایک جہاں معنی سمٹ آیا اور جانے پہچانے لفظوں پر صاحب تحریر کی مہر ثبت ہوگئی۔

یوسفی صاحب اب ہمارے درمیان نہیں مگر ان کی یہ زندہ تحریریں انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گی اور اس وقت تک زندہ رہیں گی جب تک پھکڑ پن اور لغو مزاح کے بجائے شائستہ اور شگفتہ مزاح پڑھا جاتا رہے گا۔ ایک پروگرام جو یوسفی صاحب کے اعزاز میں ہورہا تھا اس کا استقبالیہ جن صاحب نے پڑھا انہوں نے یوسفی صاحب کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان ایک کردیے جب یوسفی صاحب اسٹیج پر خطاب کے لیے آئے تو بہت عمدگی سے ان کی تعریف کا جواب دیا کہ،

’بھیا ہمارے ہاں زندہ افراد کی اتنی تعریف کی روایت نہیں البتہ مجھے آپ کی جلد بازی پر حیرت ضرور ہے‘۔

یوسفی صاحب کا لہجہ راجستھانی ضرور تھا مگر اردو کے ساتھ ساتھ آپ کی تحریروں میں، عربی، فارسی، انگلش، فرنچ اور کراچی میں بولی جانے والی بولیاں جابجا ملیں گی۔ الفاظ اور محاوروں کا استعمال آپ کی تحریر میں جان پیدا کردیتا ہے۔ یوسفی صاحب رسومیاتی معنوں میں تو اہل زباں نہیں مگر اردو مکتوبی اور بولی جانے والی زبان پر ان کو بے پناہ قدرت حاصل ہے۔ ان کی نگاہ اردو زبان کے ایک ایک لفظ کی گہری پہچان رکھتی ہے۔

مشتاق احمد یوسفی کے ان اقتباسات سے ہمیں دعوت فکر کے ساتھ ساتھ یہ دعوت عام ملتی ہے کہ ہم ان کی کتابوں اور تحریروں کا مطالعہ ایک بار ضرور کریں، ہماری نوجوان نسل اب کتاب پڑھنے کی بجائے صرف اقتباس پر ہی اکتفا کرتی ہے۔ حالانکہ یوسفی صاحب کے مضامین میں اس نظریے کی عملی کارفرمائی سرسری طور پر پڑھنے پر بھی نمایاں نظر آتی ہیں، آپ کے نزدیک مزاح خود اپنی آگ میں تپ کر نکھرنے سے عبارت ہے۔

یوسفی صاحب نے اپنی تحریر میں طنز و مزاح کی آمیزش کے ساتھ ساتھ ذہین اور حسین گفتگو کی ہے کہ اسے بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ جس کی تفصیل کا یہ مختصر مضمون متحمل نہیں ہوسکتا میں ان کے ان الفاظ کے ساتھ اپنی تحریر کا اختتام کروں گا کہ،

’اس میں کوئی شک نہیں ہمارے یہاں باعزت طریقے سے مرنا حادثہ نہیں ہنر ہے جس کے لیے عمر بھر ریاض کرنا پڑتا ہے۔۔۔‘

میرے حرف حرف میں روشنی، مرے لفظ لفظ میں آگہی

میں چراغ خیمۂ شب نہیں کہ سحر ہوئی تو بجھا دیا