جیل میں قیدیوں کے اشتعال انگیز نعروں کے باعث نواز شریف کی نقل و حرکت محدود

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2018

ای میل

راولپنڈی: اڈیالہ جیل حکام نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) ت احیات قائد نواز شریف کی نقل و حرکت کو مزید محدود کردیا۔

اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے مذکورہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب نواز شریف اپنی بیرک کے بیرونی احاطے میں صبح کے وقت چہل قدمی کررہے تھے، تب قیدیوں نے ان کے خلاف نعرے لگائے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان بار کونسل کے وفد کو جیل میں نواز شریف سے ملاقات کی اجازت

قیدیوں کے اشتعال انگیز رویے کے پیش نظر نواز شریف کو مسجد میں نماز پڑھنے سے بھی روک دیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ جیل حکام نواز شریف اور ان کی صاحبزادی، مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں منتقل کرنے کا سوچ رہے ہیں جو سہالہ پولیس کالج کی حدود میں قائم ہے۔

اس حوالے سے سینئر سیکیورٹی افسر نے بتایا کہ ’سہالہ پولیس کالج میں بم ناکارہ بنانے والی ٹیم نے دورہ کیا اور مقامات کا اچھی طرح جائزہ لیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی سیکیورٹی جیل میں بڑھا دی گئی ہے تاہم 3 مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کے لیے جیل میں رہنا خطرے سے خالی نہیں کیونکہ اڈیالہ جیل میں پہلے ہی دہشت گردی میں ملوث انتہائی مطلوب مجرم قید ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘پورا ملک جیل بن چکا ہے، لوگ تمام زنجیریں توڑ دیں‘

سیکیورٹی افسر نے بتایا کہ لوگ بڑی تعداد میں نواز شریف سے ملاقات کی غرض سے جیل آرہے ہیں، جس کی وجہ سے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔

دوسری جانب سہالہ ریسٹ ہاؤس کو صاف ستھرا کرکے پھولوں، پینٹنگ اور تصاویوں سے سجادیا گیا ہے تاہم قیدیوں کو ڈبل بیڈ، 2 کرسی اور ایک ٹیبل فراہم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سہالہ ریسٹ ہاؤس میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو رکھا گیا تھا جب پی پی پی کی حکومت 1996 میں کردی گئی تھی۔

ان کے علاوہ دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی سہالہ ریسٹ ہاؤس میں قید کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیپٹن (ر) محمد صفدر نے نیب کو گرفتاری دے دی

اسلام آباد کیپٹل انتظامیہ نے 13 جولائی کو سہالہ ریسٹ ہاؤس کو سب جیل قرار دے دیا تھا جب نواز شریف لندن سے لاہور پہنچے لیکن انہیں اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔

نوٹیفکیشن جانے کرنے کے بعد پولیس کالج سہالہ کے ذرمہ داران سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کے لیے ریسٹ ہاؤس کی صفائی اور ضروری انتظامات کیے جاچکے ہیں۔


یہ خبر 19 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی