آغا سراج درانی، وسیم اختر کےخلاف کرپشن کی تحقیقات کی منظوری

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2018

ای میل

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کی منظوری دے دی۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب کراچی محمد الطاف باوانی کی زیر صدارت نیب دفتر میں اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی وِنگز کے ڈائریکٹرز اور مختلف کیسز کی متعلقہ تحقیقاتی ٹیموں نے شرکت کی۔

اجلاس میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور میئر کراچی وسیم اختر سمیت مبینہ کرپشن اور فنڈز میں خورد برد کی متعدد شکایات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا۔

آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے، ایم پی اے ہاسٹل اور اسمبلی کی عمارت کے تعمیراتی فنڈز میں خورد برد کرنے اور 352 غیر قانونی بھرتیاں کرنے کے الزامات کے تحت تین تحقیقات کی جائیں گی۔

وسیم اختر اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے کئی افسران و عہدیداروں کے خلاف سال 2015 سے 2018 کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری کی جانے والی 36 ارب روپے کی رقم میں خورد برد کے الزام کے تحت انکوائری ہوگی۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثے: اسپیکر سندھ اسمبلی کےخلاف تحقیقات کا اعلان

اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈی جی افتخار قائمخانی کے خلاف بھی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا، جن پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام ہے۔

مقامی بلڈر کے خلاف 54 کروڑ سے زائد مالیت کے 1600 رہائشی اور کمرشل پلاٹس کی بکنگ کرکے عوام کو بڑے پیمانے پر دھوکہ دینے کے الزام کی انکوائری کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ) کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) اور دیگر افسران کے خلاف سائٹ کے متعدد فنڈز میں خورد برد کرنے اور سپر ہائی وے پر پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹس کی انکوائری کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) پیر فرید جان سرہندی کے خلاف 378 کانسٹیبلز کی غیر قانونی بھرتیاں کرنے کے الزامات کے تحت سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں انکوائری کا آغاز بھی کیا جائے گا۔