لولی وڈ فلم ‘طیفا ان ٹربل’ جسے 20 جولائی کو پاکستان اور روس سمیت مجموعی طور پر دنیا بھر کے 20 سے زائد ممالک میں ریلیز کیا گیا تھا، اس نے پہلی ہی دن ملک میں ریکارڈ کمائی کرلی۔

ایک طرف تو پاکستان کے مختلف شہروں کے سینما گھروں کے باہر فلم کے مرکزی اداکار علی ظفر کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اور کئی لوگوں نے فلم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

دوسری جانب فلم کی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ طیفا ان ٹربل نے پہلے ہی دن ریکارڈ کمائی کرلی۔

طیفا ان ٹربل کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر دعویٰ کیا گیا کہ فلم نے ریلیز کے پہلے ہی دن ملک بھر سے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے بٹور لیے۔

یہ بھی پڑھیں: طیفا اِن ٹربل: بارہ مصالحے کی چاٹ تو بن سکتی ہے، فلم نہیں!

ساتھ ہی بتایا گیا کہ فلم نے ریکارڈ کمائی ایک ایسے وقت میں کی ہے، جب ملک بھر میں عام انتخابات کا سماں ہے اور عید کا موقع بھی نہیں۔

ساتھ ہی دعویٰ کیا گیا کہ طیفا ان ٹربل وہ پہلی پاکستانی فلم ہے، جس نے اب تک عید اور چھٹی کے دنوں کے بغیر ہی پہلے دن اتنی ریکارڈ کمائی کی ہے۔

دوسری جانب علی ظفر نے بھی فلم کی ریکارڈ کمائی کے حوالے سے ٹوئیٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فلم نے ریکارڈ کمائی کرلی۔

علی ظفر اور مایا علی خان کی اس فلم میں جاوید شیخ اور فیصل قریشی بھی اہم کردار میں نظر آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: علی ظفر اور ’طیفا ان ٹربل‘

فلم میں علی ظفر ایک ایسے ڈاکو بنے ہیں، جو مایا علی کو اغوا کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں، تاہم بعد ازاں ان دونوں میں پیار ہوجاتا ہے۔

پیار، اغوا، دھوکے اور مجبوریوں کے گرد گھومتی اس فلم نے ریلیز سے پہلے ہی کئی ریکارڈز اپنے نام کیے تھے۔

یہ علی ظفر اور مایا علی کی پہلی پاکستانی فلم ہے، اس سے قبل علی ظفر متعدد بولی وڈ فلموں میں نظر آ چکے ہیں۔

فلم میں علی ظفر کی وجہ سے ملک کے مختلف شہروں میں اداکار کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین کے مطابق علی ظفر نے ساتھی گلوکارہ میشا شفیع کو جنسی طور پر ہراساں کیا، اس لیے اس کی فلم کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے، تاہم کئی لوگ فلم کو دیکھنے کے لیے بھی پہنچ رہے ہیں۔