انتخابی نعرے ’کل‘ سے لے کر ’آج‘ تک

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2018

ای میل

نعروں میں جہاں ایک مستی ہوتی ہے، وہیں طنز، مطالبے، شکوے اور کہیں تو دھمکیاں بھی در آتی ہیں۔ رواں، مختصر اور جامع فقرے و مصرع کہیں فقط اظہار ہوتے ہیں تو کہیں کوئی مخصوص پیغام لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اشتہارات کے علاوہ ان کا سب سے زیادہ استعمال عام انتخابات میں ہوتا ہے۔ نغمگی اور ترنم لیے ہوئے ان نعروں سے ہی پھر سیاسی ترانے بھی تشکیل دیے جاتے ہیں اور کبھی انہی ترانوں سے ’نعرے‘ رواج پا جاتے ہیں۔

ہماری زبان کے بہت سے عام فقرے بھی تکرار اور مخصوص معنوں میں کثرتِ استعمال کے سبب اپنے مفہوم بدلنے لگتے ہیں۔ ایک واقعے کے بعد عام سے جملے گہرے اور خاص ہوجاتے ہیں۔ کسی خاص پس منظر یا کسی شخصیت سے منسوب ہونے کے سبب عام سے فقرے بہت تیزی سے زبان زدِ عام ہوجاتے ہیں۔ پہلے نعرے فقط بینروں، دستی رقعوں اور دیواروں پر لکھے جاتے تھے، مگر اب اس میں ’فیس بک‘ کی دیوار زیادہ آسان اور پُراثر ہوگئی ہے۔

جیسے نواز شریف کا وزارت عظمیٰ سے بے دخلی پر یہ شکوہ ’مجھے کیوں نکالا‘ مخالفین نے پکڑ لیا اور پھر خوب طنز کیا۔ اس سے پہلے الطاف حسین کا ایک تقریر میں بچوں کو یہ کہنا ’ایک پپّی اِدھر ایک پپّی اِدھر‘ بھی عام ہوا۔ سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں تقریر کہ ’کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے!‘ آج بھی روز مرہ کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ عمران خان کے جلسے میں الفاظ ’تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے‘، مصطفیٰ کمال کا الطاف حسین کے خلاف یہ جملہ ’یار یہ آدمی ہمیں کہاں لے آیا‘، عامر لیاقت کا اپنے پروگرام میں یہ کہنا ’آم کھائے گا آم!‘ بھی مختلف تناظر میں برتا گیا۔

عامر لیاقت کی ہی ایک ویڈیو میں ان کے مہمان کا یہ جواب کہ ’بڑی نازک صورت حال ہے‘ کے عروج کا یہ عالم کہ اسے ایک چینل نے مقابلہ تقریر کا عنوان بنا ڈالا۔ سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کا بیان ’ڈگری ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا جعلی!‘ مختلف تبدیلیوں کے ساتھ عام گفتگو کا حصہ بنا۔ یہ سلسلہ پہلے صرف شہر کی دیواروں پر ہوتا تھا مگر اب سماجی ذرائع اِبلاغ آنے سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔

مزید پڑھیے: سیاسی جماعتوں کو ملنے والے انتخابی نشان اور انکے پیچھے چھپی کہانی

انتخابی نعروں پر نگاہ ڈالیے تو 1965ء کے صدارتی انتخابات میں ایوب خان کا انتخابی نشان ’پھول‘ اور فاطمہ جناح کا ’لالٹین‘ تھا۔ اس مناسبت سے ایوب خان کی حمایت میں نعرے سامنے آئے ’ایک شمع جلی جل جانے کو، ایک پھول کِھلا مرجھانے کو‘۔ دھاندلی سے جیتنے والے ایوب خان کی رخصتی بھی ایک نعرے کی گونج میں ہوئی وہ ’ایوب کتا ہائے ہائے‘ تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ ان کے گھر کا ایک بچہ بھی دیگر بچوں کے ساتھ مل کر ’ہائے ہائے‘ کے نعرے لگانے لگا، جس نے انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اپنا منشور ’اسلام ہمارا مذہب، سوشل ازم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست، طاقت کا سرچشمہ عوام‘ کے فقرے میں سمویا اور ساتھ ہی ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ جیسا جامع اور گہرا نعرہ بھی لگایا۔ بعد میں بھی پی پی پی نے ’علم، روشنی سب کو کام، روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہا ہے ہر انسان‘ کے نعرے لگائے۔ پھر 18ویں ترمیم کی بنیاد پر ’حق ملا عوام کو بدلا ہے نظام کو‘ کے علاوہ ’روٹی کپڑا اور مکان، علم صحت سب کو کام، دہشت سے محفوظ انسان، اونچا ہو جمہور کا نام‘ بھی سامنے آئے۔ پیپلز پارٹی نے ’میں مہاجر بھٹو ہوں!‘ کا نعرہ باقاعدہ ’جاری‘ تو نہیں کیا، لیکن دیواروں پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ویڈیو میں ’نعرہ بھٹو، نعرہ مہاجر‘ اہل کراچی نے انگشت بدنداں ہوکر سنا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)

’پاناما لیکس‘ کا کاری وار سہنے والی نواز لیگ بڑے زور و شور سے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کے ساتھ انتخابی اکھاڑے میں ہے۔ شہباز شریف نے کراچی میں نواز لیگ کی انتخابی مہم شروع کی تو ایک بار بھی یہ نعرہ نہ لگایا۔ کسی دل جلے نے کہا یہاں شاید یہ نعرہ اس لیے نہیں لگایا کہ انہیں شاید یہ ڈر ہو کہ اگر وہ کہتے ’ووٹ کو عزت دو‘ تو یہ جواب نہ مل جاتا کہ ’پہلے تم دو!‘؟ اس کے علاوہ شہرِ قائد کے لیے ’کراچی میں جو سکون ہے اس کے پیچھے مسلم لیگ (ن) ہے‘ کا نعرہ لگایا بھی گیا۔

پاکستان تحریک انصاف

پچھلے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مقبول ترین نعرہ ’آؤ مل کر بنائیں ایک نیا پاکستان!‘ رہا۔ اس کے علاوہ ’صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی‘، ’دل میں ہو نیت صاف، تو ہو انصاف، کہے عمران خان‘ کے نعرے لگے۔ اس بار ’دو نہیں ایک پاکستان‘ مرکزی نعرہ ہے، جب کہ ’اب صرف عمران خان‘، ’روک سکو تو روک لو۔۔۔ تبدیلی آگئی ہے یارو!‘ کے ساتھ ساتھ ’وزیرِ اعظم کراچی سے‘ کا نعرہ بھی نمایاں ہے۔

متحدہ مجلس عمل

متحدہ مجلس عمل ’اب کی بار، دیانت دار‘ جیسے مختصر و جامع نعرے کو اپنی انتخابی مہم کا عنوان بنائے ہوئے ہے، جو شاید ’اب کی بار، مودی سرکار‘ سے متاثرہ ہے۔ مجلس عمل کی مرکزی جماعت اس سے قبل ’سیدی مرشدی مودودی مودودی‘ اور ’ظالمو قاضی آ رہا ہے‘، جیسے نعرے دے چکی۔ 2002ء میں مجلس عمل کے پہلے انتخاب میں ’ہاتھوں میں کتاب ہو آغاز انقلاب ہو!‘ کے سحر نے تاریخی مینڈیٹ عطا کیا تھا، جب کہ اس بار ان کے نعروں میں ’کتاب کو حکمراں بناؤ‘ بھی نمایاں ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ

ایم کیو ایم اپنی تاریخ کے مشکل ترین انتخابات لڑ رہی ہے۔ ’ہم کو منزل نہیں رہنما چاہیے‘، ’مہاجروں کے دل کا چین الطاف حسین‘، ’قائد کے فرمان پر جان بھی قربان ہے‘، ’ہم نہ ہوں ہمارے بعد الطاف الطاف‘ جیسے نعرے لگانے والی متحدہ اب قائد کے بغیر انتخابی میدان میں ہے۔ الطاف حسین اس انتخاب کے بائیکاٹ پر ہیں، چناںچہ ایم کیو ایم اب ’اپنا ووٹ اپنوں کے لیے!‘ کہہ کر اپنی قسمت آزما رہی ہے۔ اس موقع پر اپنے اوائل زمانے کا ایک ترانہ بھی چلا رہے ہیں کہ ’اپنوں کا ساتھ دو، غیروں کا ساتھ چھوڑو اے مہاجرو، اے مہاجرو!‘۔ دلچسپ بات یہ کہ اس میں کسی سیاسی جماعت، رہنما یا انتخابی نشان کا ذکر نہیں۔ آج اس کے یہ بول سنیے تو لگتا ہے کہ یہ ترانہ اُن سے زیادہ اُن کا مخالف برت سکتے ہیں کہ

’کب تک مرو گے نعروں پر، کب تک جیو گے وعدوں پر، اب خود کو بھی تبدیل کرو اے مہاجرو اے مہاجرو...!‘

پاک سر زمین پارٹی

سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال اپنی 2 سالہ جماعت لیے بلند امیدوں کے ساتھ انتخابات میں ہیں، اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ بھی اپنی سابق جماعت ایم کیو ایم کی طرح ایک جوا کھیل رہے ہیں، جو بہ یک وقت بہت سی نشستوں اور ایک بھی نشست نہ ملنے کے مساوی امکان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا بنیادی نعرہ تو ’کمال ہی کمال ہے، مصطفیٰ کمال ہے‘ مگر انتخابی نشان کی مناسبت سے اب وہ ’پی ایس پی کرے گی وِن، ڈولفن ڈولفن‘ کہہ رہے ہیں۔

ان کے اس ترانے کے حوالے سے ہم مزید کچھ نہیں کہیں گے، بول اس کے یوں ہیں ’خدا کا سایہ جس پہ ہو وہ بندہ بے مثال ہے۔۔۔ نام مصطفی ہو تو کمال ہی کمال ہے۔۔۔ پاک سرزمین کا جو ایسا جاں نثار ہے۔۔۔ ملک اور عوام سے جس کو دل سے پیار ہے ۔۔۔ وہ مصطفیٰ کمال ہے وہ مصطفیٰ کمال ہے!