مالاکنڈ ڈویژن میں جمہوریت جیت گئی

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2018

ای میل

’میں نے اس پولنگ اسٹیشن پر 60 لاکھ روپے لگائے ہیں، یہاں سے مجھے کوئی ہرا نہیں سکتا‘۔

یہ الفاظ میں نے گزشتہ ایک دیہائی سے رکن صوبائی اسمبلی رہنے والے شخص کی زبان سے سنے جس نے الیکشن کے روز ہزاروں لوگوں کے سامنے ہیرو کی طرح پولنگ اسٹیشن میں جاتے وقت کہے تھے۔

ان الفاظ نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ آخر ایک پولنگ اسٹیشن پر 60 لاکھ روپے کیسے خرچ ہوسکتے ہیں؟ یا تو یہ نقد عوام میں بانٹے گئے ہیں یا پھر ووٹ کے عوض خرچ کیے گئے ہیں۔

یہ صرف ایک پولنگ اسٹیشن کی بات نہیں بلکہ میرے علم کے مطابق یہ معاملہ پورے حلقہ این اے 10 اور دونوں صوبائی حلقوں میں پھیل چکا ہے اور الیکشن کے آخری 10 دنوں میں کروڑوں کا لین دین ہوا، مگر یہاں جمہور نے ایسے لوگوں کی تمناؤں کو خاک میں ملا دیا اور وہ کروڑوں روپے لگانے کے باوجود بھی نشستیں حاصل نہ کرسکے۔ 25 جولائی کو مالا کنڈ ڈویژن کے چند حلقوں میں میں نے کیا کچھ دیکھا آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔

خواتین کا ووٹ اور جوش

اس سال شانگلہ، کوہستان، بٹگرام اور تورغر میں ٹرن آؤٹ 2013ء کے مقابلے میں زیادہ دیکھنے کو ملا۔ ہم نے محسوس کیا کہ اس مرتبہ خواتین بھی ایک جذبے کے ساتھ گھروں سے نکلیں اور اپنے حق رائے دہی کو استعمال کیا، اس طرح خیبر پختونخوا کے علاقوں سے پورے ملک بلکہ دنیا کو پیغام گیا کہ دور دراز علاقوں میں بھی تبدیلی آگئی ہے اور ملک اصل جمہوریت کی طرف گامزن ہوچکا ہے۔

شانگلہ میں جہاں ایک طرف علاقائی روایت کے منافی مرد و خواتین کے لیے مشترکہ پولنگ اسٹیشنز قائم کرنے کی وجہ سے خواتین ووٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہیں دوسری طرف خواتین کے درمیان جوش و ولولے کی تازہ لہر نمایاں نظر آئی جو شاید ہمارے ان علاقوں میں پہلے نہیں دیکھی گئی تھی۔ پولنگ اسٹیشن پر آنے والی خواتین مخصوص جماعت کے پرچم کے رنگوں سے رنگے برقعے اور چادریں پہن کر ووٹ ڈالنے آئی تھیں اور ان کے پاؤں میں سبز و سرخ پائل بھی پہنی دیکھی گئی۔

شانگلہ میں پہلی بار خواتین کا ووٹ کے لیے نکلنے کو پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی سے تعبیر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

اسی طرح ضلع کوہستان میں جہاں مذہبی حلقوں کی جانب سے بچیوں کو بھی پرائمری اسکول جانے سے منع کیا جاتا ہے وہیں اس مرتبہ مقامی قبائل نے عام انتخابات میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا اور 11 فیصد ٹرن آؤٹ رہا جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ مبصرین اور دیگر تعلیم یافتہ حلقوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے 10 فیصد خواتین ووٹ کو لازمی قرار دینے کی اقدام کو بے حد سراہا۔ ہمیں امید ہے کہ خواتین کو ہر سماجی شعبے میں بااختیار بنانے کے ایسے مزید اقدامات بھی دیکھنے کو ملیں گے۔

ضلع بٹگرام اور تورغر میں بھی خواتین نے پہلی مرتبہ رائے دہی کا حق استعمال کیا تاہم بٹگرام میں 2013ء کے انتخابات میں محض چند پولنگ اسٹیشنز پر خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا تھا۔ چاروں اضلاع میں خواتین ووٹ کا ٹرن آؤٹ 9 سے 14 فیصد تک رہا جو کہ 2013ء کی نسبت زیادہ ہے۔

پولنگ عملہ کہاں ہے؟

ضلع کوہستان کے بالائی علاقوں میں ہمیں الیکشن کے دن شام گئے تک خواتین پریزائیڈنگ افسران اور عملے کے پولنگ اسٹیشن پر نہ پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں لہٰذا مقامی خواتین چاہتے ہوئے بھی ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہ گئیں۔

پی کے 27 سے پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار اقبال خان کے مطابق الیکشن کمیشن کو خواتین پولنگ اسٹیشنز پر پریذائیڈنگ افسران اور عملے کی غیر موجودگی سے آگاہ کیا گیا تھا مگر اس کے باوجود بھی شام تک عملہ نہیں پہنچا تھا۔

پاک فوج کو سلام

بلاشبہ مسلح افواج کے جوان سوات میں پولنگ ڈے پر شہریوں کے ساتھ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آئے، انہوں نے نہ صرف سیکیورٹی کے انتظامات سنبھالے، پولنگ عمل کو صاف و شفاف طریقے سے جاری رکھنے کو یقینی بنایا بلکہ معذور افراد اور عمر رسیدہ شہریوں کی مدد بھی پیش پیش رہے۔

پرامن انتخابات کا انعقاد

گزشتہ عام انتخابات کے موقعے پر ہمیں مختلف پولنگ اسٹیشنز پر لڑائی جھگڑوں کی کئی خبریں ملی تھیں تاہم اس دفعہ سیکیورٹی اہلکاروں نے حالات کو قابو میں رکھا اور سب سے بڑھ کر کوہستان جیسے علاقے میں پرامن طریقے سے انتخابی کارروائی انجام کو پہنچی۔

فرنٹیر کور کے جوانوں کو حالات کنٹرول میں رکھنے اور دھاندلی کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنانے پر عوام نے خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

اس مرتبہ ایک اور دلچسپ بات یہ بھی رہی کہ اس بار کوہستان کے اندر مقامی سطح پر بننے والے اتحاد ہی کامیاب ہوئے۔ کوہستان میں اتحادی اُمیدواروں کے لیے تمام قبائل میں قرعہ اندازی کی جاتی ہے، پھر جن کے بھی ناموں کا قرعہ نکلتا ہے انہیں متفقہ اُمیدوار کے طو پر میدان میں اُتارا جاتا ہے اور پھر تمام قبائل مشترکہ طور پران اُمیدواروں کی حمایت کرتے ہیں۔

شانگلہ میں تبدیلی کی فضا

شانگلہ میں گزشتہ کئی دیہائیوں کے بعد تبدیلی دیکھی گئی، حلقہ این اے 10 کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام ماضی کے انتخابات میں 10 ہزار کی لیڈ سے فتحیاب ہوتے رہے ہیں مگر اس دفعہ اُن کے چھوٹے بھائی عباد اللہ یہاں سے صرف 1400 ووٹ کے فرق کے نشست پر کامیابی حاصل کرپائے جبکہ امیر مقام دوسری مرتبہ تمام نشستوں سے ہارگئے ہیں اور یوں وہ ایک بار پھر پارلیمانی سیاست سے باہر ہوچکے ہیں۔

امیر مقام حلقہ این اے 10 سے خود انتخابات لڑنا چاہتے تھے مگر بھائی سے اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ تھا لہٰذا انہوں نے دوسرے حلقوں سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تاہم اس نشست پر اُن کے بھائی عباد اللہ دوسری مرتبہ شانگلہ سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔

یہاں دوسری تبدیلی یہ دیکھنے کو ملی کہ ان علاقوں میں عام انتخابات 2018ء کے دوران دھاندلی کے حوالے سے کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا تاہم ہم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج میں تاخیر اور دیگر نقائص ضرور دیکھے جس کی وجہ سے اُمیدواروں اور حمایتیوں میں بے چینی بھی پائی گئی۔

دوسری جانب میں نے پہلی مرتبہ نوٹ کیا کہ کامیابی کے بعد پارٹی کارکنان ایک دوسرے پر دور سے آوازیں کستے رہے، ’لالٹین تباہ دے‘، ’سو باڑے تباہ دے‘، ’منزرے مڑ دے‘، وغیرہ وغیرہ مگر یہ لفظی حملے بڑے ہی خوشگوار سیاسی ماحول میں کیے جا رہے تھے۔ تمام کامیاب سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا، نتائج کے بعد ڈھول کی تھاپ پر رقص کا سلسلہ بھی شروع ہوا جو رات دیر تک جاری رہا۔

ووٹرز کی خاطر تواضع

ضلع بٹگرام میں سیکیورٹی کے حوالے سے گزشتہ انتخابات سے بہتر انتظامات دیکھنے کو ملے۔ یہاں بھی دلچسپ نظارے بکھرے تھے، مثلاً دیگر شہروں میں رہائش پذیر مقامی ووٹرز کو امیدوار اپنے خرچے پر ووٹ ڈلوانے کے لیے خود لارہے تھے اور اُن کے طعام کا بھی بہترین انتظام کیا گیا تھا۔

بٹگرام میں بھی پہلی مرتبہ خواتین ووٹ کا ٹرن آؤٹ حیران کن تھا اور یہاں بھی خواتین کا جذبہ دیدنی تھا۔ اکثر مقامی افراد نے شفاف الیکشن کی گواہی دی۔ مجھے یاد ہے کہ 2013ء کے انتخابات کے موقعے پر بٹگرام میں اُمیدواروں کے درمیان لڑائی جھگڑوں، بیلٹ باکس چھیننے، ووٹوں سے بھرے بیلٹ باکس جلائے جانے اور دھاندلی کی بھی رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں مگر اس مرتبہ ایسی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

ضلع تورغر جیسے پسماندہ علاقے میں بھی اس دفعہ خواتین نے بھرپور انداز میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، اگرچہ یہاں مذہبی جماعتوں کی اکثریت تھی مگر عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار کامیاب ہوئے۔

یہاں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں نے شہری طرز پر بڑے بڑے انتخابی جلسوں کا انعقاد کیا، اس سے پہلے ڈور ٹو ڈور جرگہ کے طور پر انتخابی مہم چلائی جاتی تھی مگر اور اب یہ دستور بھی تبدیل ہوا۔

فافن کے مطابق شانگلہ کے حلقے این اے 10 میں خواتین ووٹ کا تناسب 10 فیصد سے کم ہے لہٰذا الیکشن ایکٹ کے مطابق 2 حلقوں این اے 10 اور این اے 48 وزیرستان کا الیکشن کالعدم قرار دینے کے بعد دوبارہ الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔

مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کا مسئلہ

پولنگ ڈے سے ایک دن قبل جب میں نے پولنگ اسٹیشن اسکیم پر نظر دوڑائی تو پایا کہ 80 فیصد پولنگ اسٹیشنز مشترکہ قائم گئے ہیں، مجھے اس دن ہی احساس ہوگیا تھا کہ علاقائی روایت کے برعکس پولنگ اسٹیشن مشترکہ قائم کرنے کے عمل سے ممکنہ طور پر ووٹ ٹرن آؤٹ کم آئے گا اور میرا یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔

اگر الیکشن کمیشن خواتین کے لیے علیحدہ پولنگ اسٹیشنز کا انتظام کرتے تو ممکن ہے دوبارہ الیکشن کے انعقاد کی نوبت ہی نہیں آتی تاہم ابھی تک الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کا اعلان تو نہیں کیا مگر امکان ضرور ظاہر کیا ہے۔

کوہستان، بٹگرام، تورغر میں خواتین کے لیے علیحدہ پولنگ اسٹیشنز کے انتظامات کی وجہ سے ہی خواتین ووٹ کا ٹرن آؤٹ اچھا رہا۔

پہلی بار ووٹ اور پہلی بار دھاندلی بھی

شانگلہ میں ایک جگہ سے یہ رپورٹ بھی موصول ہوئی کہ خواتین ووٹ ڈال کر دوبارہ ہاتھوں پر مہندی لگا کر ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچیں، ان میں سے ایک خاتون کو دھر بھی لیا گیا اور الیکشن عملے نے اسے جیل بھیجنے کا فیصلہ بھی کرلیا تھا مگر مقامی جرگہ اور عوام کی منت سماجت سے معاملہ رفعہ دفعہ کردیا گیا۔

مالا کنڈ ڈویژن میں کون جیتا اور کون ہارا یہ اتنا اہم نہیں بلکہ اصل اہمیت تو اس بات کی ہے کہ یہاں پہلی مرتبہ پرامن انتخابات کا انعقاد ہوا اور خواتین ووٹرز نے بھی اپنے فرض کو بھی اچھی طرح نبھایا اور یہی جمہویت کا حسن ہے۔