بلوچستان میں مخلوط حکومت کے لیے جوڑ توڑ تیز

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2018

ای میل

کوئٹہ: بلوچستان کی سیاسی جماعتوں نے صوبے میں مخلوط حکومت سازی کے لیے کوششیں تیز کردی۔

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے صدر جام کمال خان، سابق وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی این پی-ایم) کے اختر میگل نے کوئٹہ میں ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی پر بھی سوالات کی بوچھاڑ

جام کمال نے بی اے پی کے سینئر رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی دینے کا اعلان کیا جو دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے قائم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو میز پر آنے کی دعوت دی ہے۔

اختر مینگل نے اپنی پارٹی کابینہ کا اجلاس بروز اتوار (آج) طلب کرلیا، بی این پی ایم کی مجلس شوریٰ کا اجلاس 30 جولائی کو ہوگا جس میں صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے حوالے سے بحث و مباحثہ ہوگا۔

بلوچستان اسمبلی میں 7 نشستوں کی حامل جماعت بی این پی ایم کے ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اختر مینگل کو وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: ‘بلوچستان کے لوگوں کو سی پیک منصوبے میں جائز حق دلوائیں گے‘

واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت سے انتخابات جیت نہیں سکی۔

دوسری جانب سردار مسعود خان، مہتا خان اور میر محمد عارف محمد نے بی اے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

مسعود خان نے بی اے پی، متحدہ مجلس عمل اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے انتخابی امیدواروں کو شکست دی تھی۔

مہتا خان نے 7 مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہونے والے ایم ایم اے کے رہنما شیخ جعفر خان سمیت پاکستان تحریک انصاف اور پی کے میپ کے امیدواروں کو شکست دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: لیگی امیدواروں پر ٹکٹ چھوڑنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے،نواز شریف کا الزام

بی اے پی کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے 3 منتخب رکن قومی اسمبلی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) سے تعلق رکھنے والے 2 رہنما اگلی حکومت سازی میں معاون کار ثابت ہوں گے۔

بی اے پی کے سینئر رہنما نے بتایا کہ اے این پی اور ایچ ڈی پی کے منتخب ارکان قومی اسمبلی نے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے تاہم اس ضمن میں حتمی فیصلہ بہت جلد لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی (بی این پی –اے) نے 2 نشستیں اور مسلم لیگ (ن) اور پی کے میپ نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔

اس کے علاوہ متھدہ مجلس عمل پاکستان (ایم ایم اے) کے 8 منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں۔


یہ خبر 29 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی