کامیابی ذمہ داریاں بڑھاتی ہیں مگر پاکستان کے مقبول گیم شو 'جیتو پاکستان' کے میزبان فہد مصطفیٰ کو حالیہ مہینوں کے دوران مختلف تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔

فہد مصطفیٰ کو ان کے گیم شو کے دوران ایک چھوٹی بچی کے خاکے کا مذاق اڑانے پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کا سامنا ہوا۔

اس کے علاوہ ان پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ ایسی گیمز پروگرام کا حصہ بناتے ہیں جو باڈی شیمنگ کے زمرے میں آتے ہیں، یعنی سب سے موٹا شخص یا خاتون کا مقابلہ۔

مزید پڑھیں : فہد مصطفیٰ اور مہوش حیات کی 'لوڈ ویڈنگ'

تو کیا انہیں اس پروگرام کے حوالے سے زیادہ حساس نہیں ہونا چاہئے؟

ڈان کے ای او ایس میگزین کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران فہد مصطفیٰ سے یہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ' مجھے بچوں کو چھیڑنا اچھا لگتا ہے اور میں ان سے ایک خاص انداز سے بات کرتا ہوں، میں نے اس بچی سے بھی دوستانہ انداز میں بات کی تھی اور اس نے بھی برا نہیں منایا تھا، مگر اس پروگرام کی قسط کو اگلے دن سوشل میڈیا میں تناظر سے ہٹ کر پیش کیا گیا، اور جو لوگ میرے شو میں گیمز کھیلتے ہیں، وہ برا نہیں مانتے، وہ تفریح کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ میرے ذہن میں کوئی خراب ارادہ نہیں'۔

انہوں نے مزید کہا ' مجھ پر ہونے والی تنقید سے قطع نظر، میرے شو کے ناظرین ہمیشہ پرجوش رہتے ہیں، انہیں وہ پسند آتا ہے جب میں کسی گاڑی پر چڑھ جاتا ہوں یا کہتا ہوں 'سوچ لو'۔ شو کے دوران میرے کئی مذاق کئی فلموں میں دکھائے جارہے ہیں۔ نبیل قریشی (لوڈ ویڈنگ کے ڈائریکٹر) نے مجھے گاڑی پر چڑھا دیا ہے، جبکہ جوانی پھر نہیں آنی ٹو میں میرے انعامات دینے کے حوالے سے جملے موجود ہیں'۔

ان کا کہنا تھا ' مجھے خوشی ہے کہ میں نے ایسے لطائف بنائے ہیں جو اب ہر ایک جانتا ہے۔ میں اب تک اپنی کامیابیوں پر مطمئن ہوں اور میں نے یہ سب اپنے انداز میں کام کرکے حاصل کیا ہے، میں جو کپڑے پہنتا ہوں وہ میرے درزی چیری کے ہوتے ہیں۔ اس کی دکان پی ای سی ایچ ایس، کراچی میں ہے۔ میرے والد عید کے ملبوسات کے لیے اس کے پاس جاتے تھے اور میں نے پوری زندگی اپنے کپڑے اس سے تیار کروائے ہیں۔ میرا اسٹائلسٹ وہ ہے جو برسوں سے میرا حجام ہے، اس کی دکان ناظم آباد ہے، مجھے کبھی نہیں لگا کہ کہ مجھے ڈیزائنر برانڈز کی ضرورت ہے تاکہ شو آف کرسکوں یا اپنے طرز زندگی کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کروں'۔

مکمل انٹرویو یہاں پڑھیں۔