کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) صوبے میں حکومت سازی کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی-عوامی) کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔

واضح رہے کہ بی اے پی نے حالیہ انتخابات میں سب سے زیادہ 15 صوبائی نشستیں حاصل کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن جماعتوں کا تحریک انصاف کےخلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق

دوسری جانب بی این پی عوامی صرف دو نشستیں حاصل کر سکی تھی تاہم عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) پہلے ہی بی اے پی کے حق میں اپنی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں۔

3 آزاد امیدواروں سمیت تینوں جماعتوں کی حمایت کے بعد بی اے پی کے پاس انتخابی نشستوں کی تعداد 65 میں سے 25 ہو گئی ہے۔

علاوہ ازیں بی اے پی نے وزیراعلیٰ کے عہدے پر کسی کا نام تجویز نہیں کیا تاہم ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے 3 رہنماؤں کے نام وزیراعلیٰ کے لیے زیر غور ہیں۔

سیاسی حلقوں میں جام کمال خان، میرجان محمد خان جمالی اور میر عبدالقدوس بزنجو کے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: تعلقات میں نئے دور کے آغاز پر تیار ہیں، مودی کا عمران خان کو فون

جام کمال اور دیگر بی اے پی کی مشاورتی کمیٹی سمیت پارٹی کے بانی سعید احمد ہاشمی سیاسی قائدین سے ملاقات کررہے ہیں تاکہ بلوچستان اسمبلی میں نمائندگی حاصل کر سکیں۔

ایک ذرائع نے انکشاف کیا کہ’ہم مخلوط حکومت سازی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی ارکان نے بلوچستان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر سردار یار محمد رند کی رہائش گاہ پر ان سے اہم ملاقات کی ہے۔

خیال رہے کہ صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 5 ارکان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کا 2 اگست کو الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کا اعلان

ذرائع نے بتایا کہ دونوں جانب سے بلوچستان میں مخلوط حکومت سازی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ کے عہدہ پر بات کی لیکن پارٹی کی جانب سے کسی کا نام حتمی نہیں کیا جا سکا۔

بی اے پی کے صدر جام کمال اور دیگر مشاورتی کمیٹی کے ارکان نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی- مینگل) کے صدر سردار اختر مینگل سے بھی ملاقات کی اور ان سے صوبے میں حکومت سازی کے لیے حمایت کی بات کی۔

اسی دورن سردار مینگل نے پارٹی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں مخلوط حکومت کے مسئلے پر تبادلہ خیال ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ بی این پی- مینگل خود بھی وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیب نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف ریفرنس دائر کردیا

دوسری جانب سردار مینگل پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ دیگر اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی وزیراعلیٰ منتخب کیا جائے گا۔

بی این پی- مینگل جماعت اسلامی (ف) کے ساتھ اتحاد کا حصہ ہے اور کوئٹہ میں اے این پی اور ایچ ڈی پی کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کر چکا ہے۔


یہ خبر 31 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی