اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک بین الاقوامی کمپنی کی جانب سے پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی پیش کردہ رپورٹ کی جلد 10 کی نقول حاصل کرنے سے متعلق درخواست پر قومی احتساب بیورو ( نیب ) اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں بین الاقومی کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت کمپنی کے وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ اس حوالے سے لندن میں کیس کی سماعت جاری ہے اور گزشتہ سماعتیں 16 سے 19 جولائی تک ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاناما جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد 10 کے حصول سے متعلق درخواست سماعت کیلئے مقرر

ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے بتایا کہ لندن کی عدالت میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جارہا ہے، عدالت کا کہنا ہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیس سن کر فیصلہ کریں گے۔

بعد ازاں عدالت نے بین الاقوامی کمپنی کی درخواست پر نیب اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 15 روز کے لیے ملتوی کردی۔

عدالت سے رجوع کرنے کی وجوہات

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مختلف آف شور کمپنیوں میں پاکستانی قوم کی رقم کی واپسی میں مدد کے لیے بین الاقوامی کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی کی خدمات حاصل کی تھیں اور ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

پاکستان کی جانب سے لوٹی ہوئی رقم اور آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی واپسی کے لیے 20 جون 2000 میں نیب نے براڈ شیٹ کمپنی سے معاہدہ کیا تھا۔

تاہم عالمی ادارے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس معاہدے کے تحت ادا کی جانے والی رقم نیب نے ادا نہیں کی، جس کی بنیاد پر بین الاقوامی کمپنی نے نیب کو 50 کروڑ ڈالر ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا۔

پاکستان کو ان الزامات پر 50 کروڑ ڈالر کے مقدمے کا سامنا اس لیے کرنا پڑا تھا کہ کیونکہ کمپنی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ نیب کی جانب سے کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر موصول نہیں ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد 10 کے حصول کیلئے بین الاقوامی کمپنی کا سپریم کورٹ سے رجوع

بین الاقومی کمپنی نے موقف اپنایا تھا کہ نیب کو خدمات فراہم کیں اور تمام معلومات اور حقائق بتائے لیکن ہمیں اس کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔

بعد ازاں دونوں فریقن کے درمیان تنازعے سے یہ معاملہ عالمی عدالت میں چلا گیا تھا اور براڈ شیٹ کی جانب سے سپریم کورٹ سے اس وقت رجوع کیا گیا تھا جب بین الاقوامی ثالثی عدالت نے کمپنی کو کہا تھا کہ وہ پاکستان کے اٹارنی جنرل دفتر اور نیب کی جانب سے حاصل کردہ جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد 10 جمع کرائے۔

اس معاملے پر 16 جولائی کو سپریم کورٹ نے ایک بین الاقوامی کمپنی کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیا تھا۔