سپریم کورٹ: سابق جنرلز راحیل شریف، شجاع پاشا کو دیا گیا این او سی طلب

اپ ڈیٹ 01 اگست 2018

ای میل

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کی بیرونِ ملک ملازمت کے لیے دیا گیا این او سی طلب کرلیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے ججز اور سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران سیکریٹری دفاع عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا بیرون ملک چلے گئے ایسا کیسے ممکن ہوا کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد ملازمت اختیار کرلی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق 2 سال تک کوئی افسر ملازمت اختیار نہیں کر سکتا جبکہ اسی طرح جنرل (ر) راحیل شریف نے بھی بیرونِ ملک ملازمت اختیار کی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک فوج میں غیر ملکی کی ملازمت پر پابندی ہونی چاہیے، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ کیا قانون کا اطلاق فوجی افسران پر نہیں ہوتا؟ جس پر سیکریٹری دفاع نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق دونوں افسران این او سی لے کر بیرون ملک گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کہا جاتا ہے کہ حساس اداروں کے لوگ کافی اہم ہوتے ہیں اور ان اداروں کے اعلیٰ افسران اور سربراہان کے پاس حساس معلومات ہوتی ہیں، ایسے لوگوں کو تو تحفظ دینا چاہیے۔

سیکریٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا اور جنرل (ر) راحیل شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ان دونوں افسران کو تو سالوں تک ملک نہیں چھوڑنا چاہیے تھا اور ان کو سیکیورٹی بھی دینی چاہے تھی۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کے حوالے سے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’میری اطلاعات کے مطابق جنرل پاشا خفیہ ادارے کے سربراہ تھے اور 2 سال پورے کیے بغیر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں انہوں نے ایسی ہی ملازمت اختیار کی۔

یہ بھی پڑھیں: دوہری شہریت کیس: سپریم کورٹ نے افسران کو نوٹسز جاری کردیے

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فوجی افسران نے این او سی حاصل کیا تھا؟ جس پر سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے این او سی جاری کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے ہدایت جاری کی کہ فوج کے تمام کمیشنڈ افسران سے دوہری شہریت سے متعلق حلف نامہ لیا جائے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ایک ٹی وی اینکر اکثر اپنے پروگرام میں بات کرتے ہیں کہ عدالت ایسے معاملات کو نہیں اٹھا رہی، آج ایسے مسائل پر بات ہورہی ہے تو انہیں یہاں ہونا چاہیے تھا۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 27 ایسے افسران ہیں جن کی دوہری شہریت ہے، عدالت نے کہا تھا کہ ایک پاکستانی سفیر کی دوہری شہریت ہے لیکن اس کی دوہری شہریت نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے بہت سارے افسران کی دوہری شہریت کی شناخت کی ہے، جن میں ایسے افسران بھی شامل ہیں جن کے رشتہ داروں کی بھی دوہری شہریت ہے۔

مزید پڑھیں: دہری شہریت رکھنے والے بیس ارکان اسملبی کے نام ظاہر

انہوں نے کہا کہ ایسے افسران کے رشتہ داروں کی دوہری شہریت پر بھی تحفظات ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جن کی بیویاں دوہری شہریت کی حامل ہیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کچھ افسران نے خود اپنے بارے میں بتایا جبکہ کچھ کو ایف آئی اے نے شناخت کیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کچھ ممالک ایسے ہیں جو دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن زیادہ تر ممالک ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس شخص کی دوہری شہریت ہے وہ پاکستان کا بھی شہری ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائی کورٹ میں دوہری شہریت کیس میں جو معاون تھے ان 3 افراد میں سے 2 اب سپریم کورٹ کے جج ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب بطور جج ان کے نظریات مختلف ہیں اور ان کا نقطہ نظر عدالت پر لاگو نہیں ہوتا جبکہ اسے تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا انحصار عدالت پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دوہری شہریت کیس: افسران کو شہریت ظاہر کرنے کیلئے 10 دن کی آخری مہلت

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ افغانستان اور روس دوہری شہریت کی اجازت نہیں دیتے جبکہ دوہری شہریت والوں کو سرکاری ملازم نہیں ہونا چاہیے، ریاست سے وفاداری ہر شہری پر لازم ہے اور آرٹیکل 5 کی پابندی کرنا ہر شخص پر فرض ہے۔

انہوں نے خدشات کا اظہار کیا کہ دوہری شہریت والا شخص کسی اور ریاست سے وفاداری کر سکتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے جنرل (ر) راحیل شریف اور لیفٹننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کو جاری ہونے والے این او سی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 اگست تک کے لیے ملتوی کردی۔

گزشتہ سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے سیکریٹری دفاع کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا تھا جبکہ فوج میں دوہری شہریت کے حامل افراد سے متعلق جواب بھی طلب کیا تھا۔