لاپتہ افراد کمیشن کا کہنا ہے کہ معاملے میں پڑوسی ممالک کی ایجنسیاں منفی کردار ادا کر رہی ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی زیر صدارت لاپتہ افراد سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن، سیکریٹری دفاع اور داخلہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

کمیشن نے اجلاس کو لاپتہ افراد سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مارچ 2011 سے اب تک لاپتہ افراد کے 5 ہزار 290 کیسز دائر ہوئے، جن میں سے 2 ہزار 636 کو نمٹا دیا گیا، 446 کیسز جبری گمشدگیوں سے متعلق نہیں نکلے جبکہ 336 کو پیروی نہ ہونے اور پتہ مکمل نہ ہونے سمیت مختلف تکنیکی وجوہات کی وجہ سے خارج کردیا گیا۔

اس طرح کمیشن کے پاس اس وقت ایک ہزار 828 مقدمات التواء کا شکار ہیں۔

اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے عوامی رائے اور حقیقت میں تضاد ہے، بیرون ملک جانے والے اور غیر ملکی جیلوں میں قید افراد کو لاپتہ افراد شمار کیا جاتا ہے، کچھ افراد بارڈر پار کرکے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے اور سزا پائی، جبکہ لاپتہ افراد سے متعلق کچھ کیسز مختلف فورمز پر اٹھائے جانے پر ایک سے زائد بار گنے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتہ افراد کے کمیشن نے 3 ہزار 3 سو 31 درخواستیں خارج کردیں

بریفنگ کے دوران مزید کہا گیا کہ جنوبی امریکا، مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک میں مقیم لسانی گروہ کے افراد کو لاپتہ افراد میں شمار کیا جاتا ہے اور کئی معاملات میں ان افراد کو ایجنسیوں کے اہلکاروں کے طور پر منسوب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں پڑوسی ممالک کی ایجنسیاں منفی کردار ادا کررہی ہیں۔‘

اجلاس کے شرکا نے لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن کی کارکردگی کو سراہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ شہریوں کی جان اور آزادی کے خلاف اس لاقانونیت کو برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کمیشن کو لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایدھی اور دیگر این جی اوز میں موجود نامعلوم لاشوں کے فرانزک اور ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا اور متعلقہ اداروں کو لاپتہ افراد سے متعلق معاملہ قانون کے مطابق حل کرنے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معاملے پر غیر سنجیدگی آرٹیکل 184 (3) کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزی شمار کی جائے گی۔