اسلام آباد: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس ایک مرتبہ پھر سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔

20 اگست کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یاور علی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت خصوصی عدالت میں کرے گا۔

سنگین غداری کیس کے لیے تشکیل دیے گئے بینچ میں چیف جسٹس یاور علی کے علاوہ بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس طاہر صفدر اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر شامل ہوں گے۔

مزید پڑھیں: پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں پراسیکیوشن سربراہ مستعفی

یاد رہے کہ کچھ دن قبل سنگین غداری کیس میں پراسیکیوشن (استغاثہ) کے سربراہ محمد اکرم شیخ نے خود کو کیس سے الگ کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

سیکریٹری داخلہ کو ارسال کیے گئے استعفے میں ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے کہا تھا کہ مرکز میں حکومت کی عارضی تبدیلی کے بعد وہ اس کیس کی مزید سماعت کے لیے دستیاب نہیں ہوسکتے۔

ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اس کیس کو جاری رکھنا چاہے تو وہ اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے وکیل کرسکتے ہیں۔

تاہم اکرم شیخ نے اس امکان کو مسترد کیا کہ کوئی بھی حکومت جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کو واپس لے گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’غداری کیس واپس لینے جیسا کوئی بھی عمل ملزم کی مدد کرنے کے مترادف ہوگا‘۔

غداری کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے ذریعے سنگین غداری کیس کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے خصوصی عدالت نے 13 دسمبر 2013 کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سابق صدر کو 24 دسمبر کو طلب کیا تھا۔

اس کیس میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نومبر 2013 میں ایڈووکیٹ اکرم شیخ کو پراسیکیوشن کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

ابتدائی طور پر جنرل (ر) پرویز مشرف کی قانونی ٹیم نے ایڈووکیٹ اکرم شیخ کی بطور چیف پراسیکیوٹر تعیناتی چیلنج کی تھی لیکن غداری کیس کے لیے مختص خصوصی عدالت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس چیلنج کو مسترد کردیا تھا۔

فروری 2014 میں جنرل (ر) پرویز مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے جس کے بعد عدالت نے 18 فروری 2014 کو ان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

مارچ 2014 میں خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ اسی سال ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے۔

عدالت نے 8 مارچ 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے 19 جولائی 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو مفرور قرار دے کر ان کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا بینچ ٹوٹ گیا

تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی تھی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے حکم کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں خصوصی عدالت نے غداری کیس کی سماعتیں دوبارہ شروع کی تھیں اور حکم دیا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا جائے، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت نے مئی میں عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیا تھا۔

بعد ازاں 11 جون کو سپریم کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا قومی شناختی کارڈ (این آئی سی) اور پاسپورٹ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔