ہاروی وائنسٹن نے‘ریپ’ کے الزامات لگانے والی خواتین کی ای میلز جاری کردیں

اپ ڈیٹ 04 اگست 2018

ای میل

ہاروی وائنسٹن اپنے ڈفینس وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے—فوٹو: شٹر اسٹاک
ہاروی وائنسٹن اپنے ڈفینس وکیل کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے—فوٹو: شٹر اسٹاک

ہولی وڈ پروڈیوسر 66 سالہ ہاروی وائنسٹن نے خود پر ‘ریپ’ کے الزامات لگانے والی خواتین کی وہ ای میلز عدالت میں پیش کردیں، جن میں خواتین نے ان سے محبت کا اظہار کیا تھا۔

خواتین کی جانب سے بھیجی گئی ای میلز کا ریکارڈ نیویارک کی عدالت میں ہاروی وائنسٹن کے ڈفینس وکیل نے پیش کیا۔

ڈفینس وکیل نے ریکارڈ پیش کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف جنسی جرائم کی فرد جرم عائد نہ کی جائیں۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق امریکا کے بہترین ترین ڈفینس وکیل بین برافمین 66 سالہ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کی جانب سے 3 اگست کو عدالت میں پیش ہوئے۔

ہاروی وائنسٹن کے وکیل نے 159 صفحات پر مبنی ای میلز کا مواد عدالت میں پیش کرتے ہوئے استدعا کی کہ اس مواد کو کیس کی سماعت کرنے والی گرینڈ جیوری کے تمام ارکان کے ساتھ شیئر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن پر جنسی جرائم کی فرد جرم عائد

عدالت میں پیش کیا گیا مواد 2013 سے 2017 کے درمیان ہاروی وائنسٹن کو موصول ہونے والی ای میلز کا ہے۔

یہ ای میلز ان خواتین نے ہاروی وائنسٹن کو بھیجی تھیں جنہوں نے اب 66 سالہ پروڈیوسر پر وحشت ناک ریپ کے الزامات عائد کر رکھے ہیں۔

عدالت میں پیش کیے گئے مواد سے پتہ چلتا ہے کہ ہاروی وائنسٹن پر ریپ کے الزامات لگانے والی خواتین پروڈیوسر سے انتہائی دوستانہ اور رومانوی انداز میں گفتگو کرتی تھیں۔

عدالت کو فراہم کیے گئے دستاویزات میں شامل متعدد ای میلز کے مواد کے مطابق ریپ کے الزامات لگانے والی خواتین نے پروڈیوسر سے پیار کرنے کے پیغام بھی بھیجے ہیں۔

مزید پڑھیں: ہاروی وائنسٹن نے ریپ کیلئے دوست کا ہوٹل استعمال کیا

ہاروی وائنسٹن کے وکیل نےعدالت کوان دستاویزات کا جائزہ لے کر اپنے مؤکل کے خلاف پہلے سے عائد کردہ فرد جرم ہٹانے کی بھی استدعا کی ہے۔

خیال رہے کہ ہاروی وائنسٹن پر کم سے کم 100 خواتین کو جنسی ہراساں اور ریپ کرنے کے الزامات ہیں، تاہم ان کے خلاف صرف 6 خواتین کے ساتھ ریپ کے الزامات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

6 میں سے 3 خواتین کے ساتھ وحشت ناک ریپ کے الزامات کے تحت ہاروی وائنسٹن پر مئی اور جولائی میں فرد جرم عائد کی جاچکی ہیں۔

ہاروی وائنسٹن نے پہلے ہی دن سے خواتین کے ریپ اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب معاملات رضامندی کے تحت ہوئے۔

ان پر سب سے پہلے اکتوبر 2017 میں الزامات سامنے آئے تھے، جس کے بعد لاس اینجلس اور لندن پولیس نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کی تھی۔

ہاروی وائنسٹن کو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ریپ کے الزامات کے تحت نیویارک پولیس نے مئی 2018 میں گرفتار کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

اب وہ جہاں ضمانت پر آزاد ہیں، وہیں ان کے خلاف 3 خواتین کو وحشت ناک ریپ کا نشانہ بنانے کی فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہیں۔

اگر ان پر الزامات ثابت ہوئے تو انہیں کم سے کم 10 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔