بنی گالا کیس: سروے جنرل آفس کے سربراہ سپریم کورٹ میں طلب

اپ ڈیٹ 06 اگست 2018

ای میل

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے بنی گالا کے حوالے سے زیر سماعت تجاوزات کیس میں سروے جنرل آفس کے سربراہ جمیل اختر کو طلب کرلیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالہ میں تجاوزات کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ڈپٹی سروے جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ برس 4 سو 5 کلومیٹر کور کرلیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اسسمنٹ 4 سو 5 کلومیٹر کی تھی جس کے لیے مزید ڈیڑھ ماہ کا وقت درکار ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ حد بندی بہت ضروری ہے جس کے لیے مزید 6 ہفتوں کا وقت آخری ہوگا، تاہم اس کے بعد ایک دن کا بھی مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر اس حوالے سے ادائیگیوں کا مسئلہ تھا تو عدالت کو پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔

عدالتِ عظمیٰ نے سروے جنرل آفس کے سربراہ جمیل اختر کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سمات کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے بنی گالا اسلام آباد کا ایک علاقہ ہے جہاں تجاوزات کے حوالے سے کیس سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے، تاہم 13 فروری کو سپریم کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بنی گالا میں تعمیر اپنی 300 کنال کی رہائش گاہ کا منظور شدہ سائٹ پلان عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

تاہم عمران خان کے وکیل کی جانب سے دستاویزات جمع کرانے کے بعد 22 فروری کو کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا تھا کہ بنی گالا میں عمران خان کے گھر کی تعمیر کا سائٹ پلان منظور شدہ نہیں۔

28 فروری کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے عمران خان کے بنی گالہ میں قائم گھر کی تعمیرات کے معاملے پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی جس کے مطابق سابق سیکریٹری یونین کونسل (یو سی) نے بنی گالا گھر کے این او سی کو جعلی قرار دے دیا تھا۔

6 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ ہماری نظر میں عمران خان کی رہائش گاہ غیر قانونی ہے۔

27 مارچ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ تعمیرات کیس میں آئندہ سماعت تک راول جھیل کی دیکھ بھال سمیت تمام مسائل کا حل اور اس حوالے سے تجاویز طلب کی تھیں جبکہ لیز پر لی گئی 11 زمینوں کے مالکان کو نوٹسز بھی جاری کر دیے تھے۔

خیال رہے کہ ڈان میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق نیشنل پارک کی تجویز 1960 میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ تھی، جو یونانی آرکیٹیکچر کانسٹینٹ تینس اپوستولس ڈوکسڈز نے دی تھی، اس تجویز کے تحت آج جس جگہ بنی گالا واقع ہے، وہیں ایک بہت بڑا درختوں سے بھرا پارک بنایا جانا تھا۔

بہت کم لوگ ایسے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ بنی گالا عمران خان اور عبدالقدیر خان جیسے نامور لوگوں کی رہائش گاہ بننے سے قبل دارالحکومت اسلام آباد کے لیے مجوزہ نیشنل پارک کے لیے مختص کی جانے والی جگہ ہے۔