چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے شاہین ایئرلائن انٹرنیشنل (ایس اے آئی) کو چین میں پھنس جانے والے تمام مسافروں کو ہرجانے کی رقم ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور شاہین ایئرلائن کے مابین ڈیڑھ ارب روپے کی ادائیگیوں کا تنازع شدت اختیار کر گیا تھا اور سی اے اے نے عدم ادائیگی پر ایئرلائن کی بیرونِ ملک جانے والی پروازیں معطل کردی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: شاہین ایئر لائن کی معذرت، چین سے مسافروں کو لانے کا کام پی آئی اے کو سونپ دیا گیا

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجازالااحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے شاہین ایئرلائن کے چیئرمین احسان صہبائی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’میں آپ کا نام ای سی ایل میں ڈال رہا ہوں، ہرجانہ ادا کیے بغیر آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے‘۔

خیال رہے کہ ڈیڑھ ارب کی ادائیگی کے تنازع کے بعد سی اے اے نے شاہین ایئرلائن کی پروازیں معطل کردی تھیں جس کے باعث 29 جولائی کو چین میں ایئرپورٹ پر متعدد پاکستانی پھنس گئے۔

بعدازاں کچھ مسافروں نے اپنے ٹکٹ واپس کردیئے تھے جبکہ بعض کو ایئرلائن کی جانب سے رہائش اور کھانا وغیرہ فراہم کیا گیا تھا۔

باقی ماندہ 214 پاکستانی مسافر چین کے ایئرپورٹ پر 9 دن تک پھنسے رہے جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے مسافروں کو واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: شاہین ایئرلائن کی اندرون ملک پروازیں معطل

چیف جسٹس کے احکامات کے بعد سی اے اے نے شاہین ایئرلائن کو خصوصی پرواز کی اجازت دی تاکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو واپس لایا جا سکے۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران شاہین ایئرلائن کے وکیل نے مسافروں کو لاحق پریشانی کا ذمہ دار سی سی اے کو قرار دیا۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ سی اے اے کی جانب سے وارننگ کے فوراً بعد ہی فلائٹس آپریشن معطل کردیئے گئے تھے۔

شاہین ایئرلائن کے وکیل کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ’شاہین ایئرلائن کو سول ایوی ایشن کے امتیازی سلوک کا سامنا ہے‘۔

اس موقع پر شاہین ایئر لائن کے چیئرمین احسان صہبائی نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ مسافروں کو ہرجانے کی ادائیگی کے علاوہ 50 لاکھ روپے بھی تقیسم کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سول ایوی ایشن نے شاہین ایئر کی 2 پروازوں کو بیرونِ ملک جانے سے روک دیا

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہر متاثرہ مسافر کو 25 ہزار روپے دینا بڑی بات نہیں ہے اس لیے اضافی 20 لاکھ روپے بھی شامل کیے جائیں‘۔

اس پر احسن صہبائیکا کہنا تھا کہ ’اضافی رقم کے بارے میں مشاورت کے بعد عدالت کو آگاہ کریں گے‘۔

بعدازاں سماعت کے اختتام پر عدالت عظمیٰ نے ایئرلائن کے چیئرمین کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔