راحیل شریف کی اسلامی اتحادی فوج میں تقرری کو کابینہ سے منظور کرانے کا حکم

اپ ڈیٹ 07 اگست 2018

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی بیرون ملک اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کے طور پر تقرری کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ججز اور سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت کیس کی سماعت کی، اس دوران سیکریٹری دفاع اور اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔

دوران سماعت افواج پاکستان میں دوہری شہریت اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) کی تقرری کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: سابق جنرلز راحیل شریف، شجاع پاشا کو دیا گیا این او سی طلب

عدالت میں موجود اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بتایا کہ سرکاری افسر کی بیرون ملک ملازمت کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ ( این او سی ) لینا ضروری ہے اور سرکاری سروسز رولز کے مطابق یہ این او سی وفاقی کابینہ دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ این او سی وفاقی حکومت جاری کرتی ہے لیکن اس کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری لینا ضروری ہے جبکہ جنرل (ر) راحیل شریف کے معاملے پر وفاقی کابینہ سے اجازت نہیں لی گئی۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں وفاقی کابینہ سے اجازت لینا ضروری ہے، اس سلسلے میں ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔

اس پر سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضمیر الحسن نے بتایا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر تقرری پر جنرل ہیڈ کوارٹرز ( جی ایچ کیو ) نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جی ایچ کیو کی منظوری کے بعد معاملہ وزارت دفاع کو بھجوا دیا تھا۔

سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا کہ راحیل شریف کے معاملے پر وفاقی حکومت سے این او سی نہیں لیا گیا تھا بلکہ انہیں اجازت وزیر دفاع نے دی۔

جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے، وفاقی حکومت کا اختیار کابینہ کے زیر اختیار ہوتا ہے، یہ معاملہ عجلت کا ہے۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ وہ جنرل (ر) راحیل شریف کی تقرری کے معاملے کو منظور یا مسترد کرنے کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں۔

اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ این او سی کے معاملے پر مزید جواب کے لیے وقت درکار ہے، جس پر عدالت نے سماعت موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد تک کے لیے ملتوی کردی۔

عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی ) کے سابق سربراہ جنرل شجاع پاشا کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج میں غیر ملکی کی ملازمت پر پابندی ہونی چاہیے، چیف جسٹس

سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ احمد شجاع پاشا نے جواب دیا ہے کہ وہ کوئی نوکری نہیں کر رہے جبکہ دوہری شہریت کے معاملے پر افواج میں سب سے بیان حلفی لیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کی بیرونِ ملک ملازمت کے لیے دیا گیا این او سی طلب کیا تھا۔

اس سے قبل سماعت میں عدالتِ عظمیٰ نے سیکریٹری دفاع کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا تھا جبکہ فوج میں دوہری شہریت کے حامل افراد سے متعلق جواب بھی طلب کیا تھا۔