اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ممکنہ حکومت جہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے منافع بخش انعامی بانڈز جاری کرنے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے وہیں وہ عوام کو اپنے ’پہلے 100 روز‘ میں ریلیف دیتی نظر نہیں آرہی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان کے ممکنہ وزیرِ خارجہ اسد عمر نے اپنی پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی 100 روز میں عوام کو ریلیف دیا پھر سبسڈی دینا لولی پاپ دینے کے مترادف ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے ابتدائی 100 روز میں ایسے فیصلے دیکھنے کو نہیں ملیں گے جن سے قوم کی قسمت بدل جائے لیکن حکومت کو ان دنوں میں آئندہ کے لیے وہ سمت مل جائے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔

اسد عمر نے شکایت کی کہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا نے ان کی 6 ہفتوں میں 12 ارب ڈالر کی ضرورت، 2 سو سے زائد کمپنیوں بشمول پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے)، پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) و دیگر کے حوالے سے کی گئی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کا انتخابی منشور پیش، عوام سے نئے وعدے

تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ پر نظر ثانی کے حوالے سے بات چیت نہیں کی گئی جبکہ غیرملکی قرضوں میں غیر شفافیت بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

اسد عمر نے بتایا کہ ’پی ٹی آئی کو ابھی حقیقی اعداد و شمار تک رسائی نہیں ہے تاہم موصول ہونے والے بہترین اطلاعات کی بنیاد پر ایک بات واضح ہے کہ ہمیں تمام موجود آپشن کو زیرِ غور لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس زیادہ آپشن موجود نہیں ہیں تاہم حکومت کے آئندہ 6 ہفتوں میں عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی مدد سمیت تمام آپشن کو مساوی دیکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ہماری حکومت ’100 دن والا پروگرام‘ پہلے ہی مکمل کرچکی ہے‘

ممکنہ وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ان کے پاس سکوک بانڈ، یورو بانڈ، دو طرفہ اور کثیر الجہتی آپشن موجود ہیں لیکن ان کی جماعت بڑے پیمانے پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی صلاحیت کو استعمال کرنے کی خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’سمندر پار پاکستانیوں کا تحریک انصاف اور عمران خان کے ساتھ جذبات کا تعلق ہے، تاہم ہم نے منصوبہ تیار کیا ہے کہ ہم انہیں پہلے کے مقابلے میں بہتر منافع کے ساتھ ڈیب انسٹرومنٹ جاری کریں گے، تاکہ وہ قوم کی ترقی میں زیادہ احسن طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اسد عمر نے کہا کہ تمام حکومتی اقدامات میں شفافیت ہونی چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے جب تک اس میں کوئی حقیقی راز شامل نہ ہوجائے۔