’سیاست دان اپنے رشتہ داروں کو کاسٹ کروانے کیلئے مجھ سے رابطہ کرتے‘

ای میل

بھارتی پروڈیوسر ایکتا کپور —فوٹو/ فائل
بھارتی پروڈیوسر ایکتا کپور —فوٹو/ فائل

جہاں بولی وڈ میں اس وقت اقرباءپروری کی بحث جاری ہے وہیں بھارتی پروڈیوسر ایکتا کپور کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پروجیکٹ میں ایسے اسٹار کڈ جو کردار میں فٹ نہ ہوپائے سے زیادہ بہتر کسی نئے اداکار کو کاسٹ کرنا سمجھتی ہیں۔

ایکتا کپور نے اپنے ڈراموں کے ذریعے ٹیلی ویژن کے کئی نامور فنکاروں کو لانچ کیا، ان میں سمرتی ایرانی، پراچی دیسائی اور مونی رائے شامل ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ایکتا کپور نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بہت سی نامور شخصیات ان سے اپنے بچوں کو پروجیکٹس میں کاسٹ کرنے کے لیے رابطہ کرتی ہیں، تاہم وہ صرف اداکاروں کی اوڈیشن دیکھ کر ہی انہیں سائن کرتی ہیں۔

ایکتا کپور کا کہنا تھا کہ ’اگر مجھے کسی اداکار کا اوڈیشن پسند نہیں آیا، پھر چاہے وہ ایک اسٹار کڈ ہی کیوں نہ ہو، تو میں مطمئن نہیں ہوتی‘۔

مزید پڑھیں: ایکتا کپور بولی وڈ خانز کے ساتھ فلمیں کیوں نہیں کرتیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ ’یقین کریں، مجھے سیاست دانوں، اداکاروں، دوستوں اور نامور کاروباری شخصیات کی کالز آتی ہیں، تاکہ میں ان کے بتائے ہوئے اداکاروں کو کاسٹ کرلوں، میری والدہ مجھ سے کہتی ہیں کہ میں ان کالز کا جواب نہیں دیتی جس کے باعث ہمیں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن میں یہی کہتی ہوں کہ میں کچھ نہیں کرسکتی کیوں کہ یہ میرا کام ہے‘۔

ایکتا کپور کے مطابق کسی نئے اداکار کو کاسٹ کرنے میں یقیناً بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ ایک اسٹار کڈ کو کاسٹ کریں اور وہ اپنے کردار کے ساتھ انصاف نہ کرے۔

یاد رہے کہ ایکتا کپور کے مقبول ڈراموں میں ’کیوں کہ سانس بھی کبھی بہو تھی‘ اور ’کہانی گھر گھر کی‘ شامل ہیں۔

ان کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’لیلیٰ مجنو‘ رواں سال 7 ستمبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہوگی۔