سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو بحال کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ خطے کے عوام کو دوسرے شہریوں کے مساوی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی حکومت کی جانب سے رواں سال مئی میں جاری کردہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو مقامی عدالت سپریم اپیلیٹ کورٹ نے معطل کردیا تھا جس کے بعد وفاقی حکومت نے عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

چیف جسٹس کی سر براہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 سے متعلق گلگت بلتستان کے سپریم اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں۔

مزید پڑھیں:گلگت بلتستان آڈر 2018: ‘نئے قانون سے جوڈیشل، سیاسی طاقت حاصل ہوگی’

چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرکے کہا کہ حکومت یقینی بنائے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو بھی بنیادی حقوق میسر ہوں۔

یاد رہے کہ روال سال 22 مئی کو اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے گلگت بلتستان کے لیے اختیارات کا پیکج جی بی آرڈر 2018 نافذ کرنے کی منظوری دی تھی جس پر صدر ممنون حسین نے دستخط کرکے آرڈر کے نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی تھی۔

گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے نفاذ سے 2009 کا سیلف گورننس آرڈیننس معطل ہوگیا تھا۔

گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے ذریعے جی بی کونسل کو معدنیات، ہائیڈرو پاور اور سیاحت سمیت دیگر شعبوں میں قانونی سازی کے حوالے سے حاصل اختیارات جی بی اسمبلی کو تفویض کیے گئے ہیں۔

تاہم گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن اراکین اور طلبا سمیت عوام کی بڑی تعداد نے اس آرڈر کی مخالفت کی تھی اور ان کا مطالبہ تھا کہ صدارتی حکم ناموں کے ذریعے انتطامات چلانے کے بجائے گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ حصہ قرار دیا جائے۔

بعد ازاں گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن سعید افضل نے سپریم اپیلیٹ کورٹ میں اس آرڈر کو چیلنج کیا تھا جس پر کورٹ نے آرڈر کو کالعدم قرار دے کر شاہد خاقان عباسی کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔