میمو گیٹ کیس میں عدالتی معاون احمر بلال صوفی نے سابق سفیر حسین حقانی کو واپس لانے کے لئے قانونی ڈرافٹ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کردیا۔

ڈرافٹ کے مطابق حسین حقانی کا ریڈ وارنٹ بھی انہیں امریکا سے واپس نہیں لاسکتا تاہم انہیں نیب کے ذریعے ملک لایا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جمعرات کو میمو گیٹ کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری درخواست پر حسین حقانی کو پاکستان لانا شاید ممکن نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میمو گیٹ کیس: ‘حکومت 30 دن میں حسین حقانی کو وطن واپس لے آئے’

جس پرعدالتی معاون نے کہا کہ دفتر خارجہ امریکا سے مایوسی کا اظہار کر سکتا ہے، حسین حقانی کو توہین عدالت عدالت کیس میں وطن لانا ممکن نہیں جبکہ سفارتخانہ فنڈز میں خوردبرد کیس ان کو واپس لانے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے جس کے لیے قانون سازی کرنا ہوگی۔

احمر بلال کی جانب سے پیش کیے گئے ڈرافٹ میں کہا گیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے۔

ڈرافٹ کے مطابق حسین حقانی کے خلاف سفارتخانہ فنڈز میں خوردبرد کیس انہیں واپس لانے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈرافٹ کے مطابق حسین حقانی کو نیب قانون کے تحت ہی واپس لایا جاسکتا ہے، ریڈ وارنٹ جاری ہونے پر انہیں واپس نہیں لایا جاسکتا کیونکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے جو حسین حقانی کے ریڈ وارنٹ جاری ہوئے ہیں وہ بے اثر ہیں؟

دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ حسین حقانی نے توہین عدالت کی ہے،ان کے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے،حسین حقانی نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر پاکستان میں جہاز آگیا ہے, پاکستان کے ملزمان کو جہاز لے جائے گا, ہم کیسے بیرون ملک سے اپنے لوگوں کو واپس لا سکتے ہیں؟

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے احمر ہلال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تجویز ہے کہ ایف آئی اے کے بجائے نیب کو اس کی واپسی کا معاملہ بھیجا جائے۔

جس پر احمر ہلال نے کہا کہ جی, نیب کے قوانین میں اُسے اختیار ہے، بیرون ملک سے معلومات لینا یا عالمی گینگ کے خلاف کارروائی کرنے کا کوئی میکینزم نہیں ہے۔

ایف آئی اے بیرون ملک سے جب درخواست کرتی ہے تو لیگل فریم ورک نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایف آئی اے سے معاملہ نیب کو منتقل کردیا جائے، نیب قانونی معاہدوں کے تحت بیرون ملک سے حسین حقانی کو واپس بلا سکتی ہے۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے احمر بلال صوفی کو اپنی تجاویز اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے نیب سے بھی رائے طلب کرلی اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے رواں سال 2 فروری کو متنازع میمو گیٹ کیس کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے میمو گیٹ کیس میں دیگر فریقین بشمول سابق وزیر اعظم نواز شریف کے، نوٹسز جاری کیے تھے۔

حسین حقانی اور میموگیٹ

میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا تھا۔

یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے کرنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک پراسرار میمو بھیجا تھا۔

اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد پاکستان کی سویلین حکومت کو امریکا کا دوست ظاہر کرنا تھا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایٹمی پھیلاؤ روکنے کا کام صرف سویلین حکومت ہی کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکیورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔

کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 'حسین حقانی یہ بھول گئے تھے کہ وہ پاکستانی سفیر ہیں، انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی'۔

حسین حقانی اور مضمون

حسین حقانی نے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں کالم تحریر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن میں انہوں نے اوباما انتظامیہ کی مدد کی جبکہ حکومت پاکستان اور خفیہ ایجنسی (آئی ایس آئی) تمام حالات سے بے خبر تھی۔

انہوں نے اپنے مضمون میں امریکیوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔

حسین حقانی نے لکھا تھا کہ 'اوباما کی صدارتی مہم کے دوران بننے والے دوستوں نے، 3 سال بعد ان سے پاکستان میں امریکی اسپیشل آپریشنز اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو تعینات کرنے کے حوالے سے مدد مانگی تھی'۔

اس حوالے سے امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر عابدہ حسین نے حسین حقانی کے حالیہ مضمون کے معاملے پر پارلیمانی کمیشن بنانے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ سفارتی ویزوں کے اجرا کے حوالے سے حسین حقانی کے بیانات سے 'پاکستان کے ریاستی اداروں کے موقف کی تصدیق ہوتی'۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' میں گفتگو کرتے ہوئے عابدہ حسین نے کہا تھا کہ ‘اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے حسین حقانی کے اس مضمون سے لاتعلقی کا اظہار کیا لیکن یہ بات کوئی وزن نہیں رکھتی، سابق صدر آصف زرداری نے اپنے دورِ صدارت میں حسین حقانی کو امریکا میں بطور پاکستانی سفیر تعینات کرکے ایک نہایت غلط اقدام اٹھایا تھا۔